کویتی پارلیمنٹ کے 9 سابق ارکان سمیت 70 کارکن عدالت سے بری

اپوزیشن رہنماوں کو پارلیمنٹ پر حملے کا سامنا تھا، اپوزیشن کا فیصلے پر جشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کویت کی ایک ماتحت عدالت نے 9 سابق ارکان پارلیمنٹ سمیت 70 حکومت مخالف کارکنوں کو پارلیمنٹ پر حملے کے الزام سے بری قرار دے دیا ہے۔ ستر افراد کیخلاف دو سال پہلے پارلیمان پر حملے کا مقد مہ بنایا گیا تھا۔

پیر کے روز سنائے گئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ '' تمام ملزمان بے گناہ پائے گئے ہیں اور ان پر پارلیمنٹ پر حملے کا جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے۔'' خیال رہے یہ فیصلہ جج ہشام عبداللہ نے لکھا ہے۔

کویتی اپوزیشن نے پیر کے روز عدالتی فیصلے کے فوری بعد خوشی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا جن میں فیس بک اور ٹوئٹربطور خاص شامل ہیں پر اس فیصلے کے حق میں زبردست مہم چلائی۔ ممتاز اپوزیشن رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ البراق نے اس عدالتی فیصلے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر جشن کا اہتمام کیا.

کویت شہر کے جنوب مغربی حصے میں پرجوش نوجوان چار انگلیوں والا وہ نشان بناتے ہوئے سڑکوں پر آگئے جو مصر کے معزول صدر مرسی کے حامیوں کی اختراع ہے۔

کویت میں انسانی حقوق کی سوسائٹی کے ڈائریکٹرمحمد الحماِیدی کا کہنا تھا '' ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ہم فیصلے پر مطمئن ہیں۔''

انہوں نے مزید کہا '' تمام اہل کویت اس فیصلے کا انتظار کر رہے تھے، یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہو گا۔'' مقدمے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا '' یہ بنیادی طور پر ملک میں پھیلا دی گئی کرپشن کیخلاف ایک احتجاج تھا جسے پارلیمنٹ پر حملے کا نام دے دیا گیا۔''

بیس ماہ سے زیادہ مدت کیلیے اس مقدمے کی عدالت میں سماعت ہوتی رہی۔ پچھلے دوسال سے کویت میں کرپشن کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں