یمن: صدر کا مشیر حملے میں بال بال بچ گیا

ایک اور واقعہ میں دو سکیورٹی افسر ہلاک، گیس کمپنی پر بھی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صدر کے ایک اہم مشیر قاتلانہ حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس امر اعلان یمنی حکومت نے باضابطہ طور پر کیا ہے۔ یمن ان دنوں بد امنی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک اہم سیاسی شخصیت کو ہدف بنانے کو یمن میں جاری اصلاحاتی عمل کو ہدف بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مشیر یاسین سید نعمان پر ایک سنائپر کے ساتھ اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی موٹر کار پر اپنے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ یاسین سید نعمان سوشلسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور قومی سطح پر جاری مکالمے کے لیے قائم کیے گئے فورم کے نائب صدر ہیں۔

تاہم وہ خوش قسمتی سے اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سنائپر یاسین سید نعمان کے گھر کے قریب مسجد کی چھت سے فائر کیا گیا ہے۔ سنائپر کے ذریعے گاڑی کی چھت کو نشانہ بناتے ہوئے یاسین نعمان کے سرپر گولی مارنے کا ہدف تھا۔

اس سے پہلے ایک اور واقعہ میں دو سینئیر سکیورٹی افسروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ دارالحکومت سے دور پیش آیاتھا۔

بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک گیس کمپنی نے اپنے ٹرمینل پر مارٹر گولوں کی فائرنگ سے ایک سو اہلکاروں سے ٹرمینل خالی کرا لیا ہے۔ ان ایک سو اہلکاروں میں غیر ملکی ملازمین بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر صنعا پہنچا دیا گیا ہے۔

اس قدرتی گیس کمپنی کے مطابق ایک سو اہکاروں کو ہنگامی بنیادوں پر ٹرمینل سے الگ کرنے کے باوجود کمپنی کا کام اور پیداوار متاثر نہیں ہو گی۔ مجموعی طور پر اس کمپنی میں 1200 کارکن کام کرتے ہیں۔

مارٹر گولوں کے حالیہ واقعے سے قبل جمعہ کے روز بھی ایک ہلکا دھماکا ہوا تھا، تاہم اس سے معمولی نقصان ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں