.

عراق میں فرقہ وارنہ دہشت گردی کی واردات، 18 افراد ہلاک

بعقوبہ کے نواح میں گڈریوں پر فائرنگ اور ایک مزار پر خودکش بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال مشرقی شہر بعقوبہ میں ایک مزار پر خود کش بم حملے اور شہر کے نواح میں گڈریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بعقوبہ مِیں خودکش بم دھماکا ابو ادریس نامی ایک بزرگ کے مزار کے احاطے میں ہوا ہے جس سے گیارہ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوگئے۔ دہشت گردی کے اس واقعے سے پہلے بعقوبہ کے شمال مشرق میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے سات شیعہ گڈریوں کو ہلاک کردیا تھا۔بم دھماکے کے مہلوکین اور زخمیوں میں ان گڈریوں کے سوگوار عزیز واقارب بھی شامل ہیں۔

دارالحکومت بغداد میں ایک مارکیٹ کے نزدیک سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔مغربی شہر رمادی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ تاہم اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجو اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے کارکنان اہل تشیع کی قیادت میں حکومت کے اہداف، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

عراق میں ماہ نومبر میں تشدد کے واقعات میں قریباً ساڑھے نو سوافراد ہلاک ہوئے تھے۔ان میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔عراق کی صحت ،داخلہ اور دفاع کی وزارتوں کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران خودکش حملوں ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں 852 عام شہری ،53 پولیس اہلکار اور 43 فوجی مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں 6350 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ سنہ 2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔

لیکن سفارت کاروں ،تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت عوام سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے۔