.

لبنان: شامی پناہ گزینوں کو برفانی طوفان سے نقصان کا اندیشہ

برفانی طوفان ''الیگزا'' منگل کی رات متوقع ہے، پناہ گزینوں کی منتقلی شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی تقریبا تین سال پر پھیلی خانہ جنگی سے تنگ آکر نقل مکانی کرنے والے شامی شہریوں کو موسم کی شدت اور امکانی برفانی طوفان کے باعث ایک مرتبہ پھر دربدری کا سامنا ہے۔ لبنان کے سماجی امور کے وزیر کے مطابق '' پناہ گزینوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے کیلیے شہری دفاع سے متعلق اداروں کی مدد لی جا رہی ہے، تاکہ انہیں برفانی طوفان اور شدید بارشوں سے بچایا جا سکے۔''

وزیر سماجی اموروائل ابو فور نے کہا ان کی وزارت اقوام متحدہ کے ریلیف کے شعبے سمیت پناہ گزینوں کی مدد کیلیے تمام اداروں سے تعاون کر رہی ہے۔ واضح رہے طوفان کی پیش گوئی منگل کی رات کیلیے کی گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کہ وجہکیمپوں میں رہنے والے ہزاروں پناہ گزین متاثر ہو سکتے ہیں۔

لبنان میں اب تک کم از کم آٹھ لاکھ 35 ہزار رجسٹرڈ شامی پناہ گزین موجود ہیں۔ جنہیں مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے۔ ان پناہ گزینوں کی اکثریت کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہے، تاہم بڑی اکثریت مشرقی لبنان کی سرد ترین وادی بیکا میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ اس وادی میں برفباری کی وجہ سے درجہ حرارت مائنس تک چلا جاتا ہے۔

وزیر سماجی امور کا کہنا تھا '' اس وادی میں غیر رسمی کیمپوں کی بڑی تعداد ہے اس لیے طوفان سے پہلے سرعت کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے، میں نہیں سمجھتا کوئی ایک لبنانی ذمہ دار چین سے بیٹھا ہو گا۔''

واضح رہے لبنانی فوج اور عالمی ادارے بھی اس سلسلے میں پہلے ہی متحرک ہو چکے ہیں۔ پناہ گزینوں میں سردی سے بچاو کیلیے ضروری سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔

امکانی طوفان جسے الیگزا کا نام دیا گیا کی وجہ سے کئی روز تک بارشوں کا خطرہ ہے۔ وزیر سماجی امور کا کہنا تھا'' ہماری کوشش ہے کہ کم سے کم نقصان ہو لیکن اس نقصان کو مکمل روکنا ممکن نہیں ہے۔''

ماہرین نے طوفان کی امکانی شدت کا اندازہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ پرانی عمارات گر سکتی ہیں اور مواصلاتی نظام کو بھی نقصان ہو گا۔