.

مصر: نئے دستور کی منظوری کیلیے دور روزہ ریفرنڈم کی تجویز

جنوری کے وسط میں ہونیوالے ریفنڈم کی حتمی تاریخ ایک ہفتے میں سامنے آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کا نیا دستور عوامی ریفرنڈم کیلیے تیار ہو گیا ہے اور عبوری حکومت کے ذمہ دار ریفرنڈم کیلیے وسط جنوری کی تاریخ پر غور کر رہے ہیں۔ حتمی تاریخ کا اعلان عدلی منصور اسی ہفتے کریں گے۔

اس امر کا اظہار انتظامی ترقی کے وزیر ہانی محمود نے کیا ہے۔ ہانی محمود کا کہنا تھا '' ملک بھر میں دستور کی منظوری کیلیے دو دن تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔''

مصر کے عبوری وزیر نے کہا ہے کہ '' ہم ان دنوں وسط جنوری میں نئے دستور کی منظوری حاصل کرنے کیلیے عوامی ریفرنڈم کرانے کا سوچ رہے ہیں، تاہم ایک ہفتے کے دوران تاریخ فائنل ہو جائے گی اور عبوری صدر عدلی منصور دو روزہ ریفرنڈم کی تاریخ کا خود اعلان کریں گے۔''

واضح رہے جنرل عبدالفتاح کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے ایک پچاس رکنی کمیٹی نامزد کر کے دستوری مسودہ تیار کرایا ہے۔ اس50 رکنی کمیٹی میں فوج کو براہ راست نمائندگی دی گئی اور ایک حاضر سروس جنرل محمد ماجدالدین برکات فوج کی طرف سے کمیٹی کا حصہ رہے۔

مذہبی طبقات کی نمائندگی سلفی مکتبہ فکر کو دی گئی جن کا ایک نمائندہ دستور ساز کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک رہا۔ اخوان المسمون کو نمائندگی دینے کے بجائے اس کے ایک منحرف رہنما کو اس 50 رکنی کمیٹی کا رکن بنایا گیا تھا۔ یوں اخوان المسلمون جسے حسنی مبارک کے 30 سالہ دور کے بعد عوام نے حکمرانی کا مینیڈیٹ دیا تھا وہ اس کمیٹی کا حصہ نہ بن سکی۔

دستور میں اسلام سے متعلقہ شقوں کو پہلے دستور کی طرح حصہ نہیں بننے دیا گیا بلکہ ایک سیکولر دستور کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ البتہ غیر روائتی طور پر فوج کو نہ صرف دستور سازی میں کردار دیا گیا ہے بلکہ حکومت سازی میں کردار دینا تسلیم کیا گیا ہے۔

ماہ جنوری میں ریفرنڈم کی عوامی منظوری کے بعد انتخابی عمل کا آغاز ہو گا، تاہم ابھی یہ طے کرنا باقی ہے ریفرنڈم کے بعد پہلے انتخاب سے مراد پارلیمانی انتخاب ہے یا صدارتی انتخاب ہے