.

جامعہ الازہر: فوجی اقتدار کے مخالف علامہ قرضاوی کا استعفا منظور

شیخ الازہر کیطرف سے فوج کی حمایت پر احتجاجا استعفی دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جامعہ الازہر کی مجلس انتظامی نے ممتاز دینی سکالر علامہ یوسف القرضاوی کا جامعہ سے استعفا منظور کر لیا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے عظیم جامعہ کی انتظامیہ کیطرف سے مصر میں فوجی حمایت سے بنی عبوری حکومت کی تائید کیے جانے پر مصر کی سب سے بڑی جامعہ سے خود کو الگ کرنے کی خاطر استعفا دے دیا تھا.

جامعہ الازہر کے علماء کی کونسل کے سیکرٹری جنرل کے مطابق شیخ الازہر احمد الطیب نے علامہ یوسف کا استعفا قبول کرنے کے حق میں ووٹ نہیں دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے شیخ الازہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ '' ایک شیخ الازہر کے شایان نہ تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کے خلاف اپنی رائے دیتے جس نے براہ راست شیخ الازہر کو نشانہ بنایا تھا۔''

علامہ یوسف القرضاوی نے شیخ الازہر پر براہ راست اعتراض کرتے ہو ئے اپنے استفے میں لکھا تھا کہ ''احمالطیب مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔'' مصری نژاد علامہ قرضاوی جو کہ قطر میں مقیم ہیں نے تین جولائی کو مصر مین منتخب صدر کو ہٹانے اور فوجی انقلاب کی مخالفت کی تھی۔

اپنے استعفے مین علامہ قرضاوی نے لکھا ہے کہ ''ہم نے انتظار کیا کہ شیخ الازہر جابر فوج کی حمایت سے رجوع کر لیں گے اور درست راستہ اختیار کر لیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔''

چھیاسی سالہ علامہ یوسف القرضاوی 1950 کی دہائِی میں بارہا جیل جا چکے ہیں۔ حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے پر تقریبا 50 سال بعد وہ مص واپس آئے تو تحریر چوک پر لاکھوں لوگوں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔