.

فلسطینی تنظیم حماس کے ایران کے ساتھ تعلقات بحال

ایران یا کسی عرب ملک کے ساتھ تعلقات کا بگاڑ نہیں چاہتے: محمود الزہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لیے ہیں۔حماس اور ایران کے درمیان شام میں جاری خانہ جنگی پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور دونوں کے دوطرفہ تعلقات میں سردمہری آگئی تھی۔

حماس کے سینیر رہ محمودالزہار نے غزہ میں سوموار کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایران کے ساتھ اپنی جماعت کے تعلقات کی بحالی کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ایران کے ساتھ تعلقات شام کی صورت حال کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔حماس شام سے اٹھ آئی تھی تاکہ اس کے بارے میں یہ نہ کہا جاسکے کہ وہ اِس فریق کے ساتھ ہے یا اُس فریق کے ساتھ ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ ہم شام کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کررہے ہیں اور نہ کسی عرب ملک میں دخیل ہیں''۔واضح رہے کہ شیعہ ایران اپنے مشترکہ دشمن اسرائیل کے مقابلے میں سنی حماس کی حمایت کرتا رہا ہے۔

حماس کے جلاوطن رہ نما خالد مشعل سالہا سال تک دمشق میں مقیم رہے تھے اور وہیں انھوں نے حماس کا ہیڈکوارٹر قائم کررکھا تھا۔شام میں 2011ء کے وسط میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد وہ وہاں سے قطر منتقل ہوگئے تھے۔اس دوران انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کے عوامی احتجاجی مظاہرے کرنے والے عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔

خالد مشعل کی دمشق سے قطر منتقلی کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ حماس شامی باغیوں کی حمایت کررہی ہے جبکہ ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے تھے۔ان میڈیا رپورٹس کے بعد ایران نے مبینہ طور پر حماس کی مالی امداد معطل کردی تھی۔

لیکن محمود الزہار نے نیوزکانفرنس کے دوران ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ حماس اور ایران کے تعلقات مکمل طور پر منقطع ہوگئے تھے۔انھوں نے بتایا کہ ''ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع نہیں ہوئے تھے اور ہم کسی اور عرب ملک سے بھی اپنے تعلقات نہیں توڑنا نہیں چاہتے۔ان ممالک سے بھی نہیں جو ہمارے خلاف لڑرہے ہیں''۔

ان کا اشارہ مصر کی جانب تھا جس نے جولائی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اسلامی تحریک مزاحمت کے خلاف سخت موقف اختیار کررکھا ہے۔حماس نظریاتی طور پر مصر کی اخوان المسلمون سے وابستہ رہی ہے۔ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے اخوان اور حماس دونوں ہی مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم حکومت کے عتاب کا شکار ہیں۔حماس نے شروع میں فوجی اقدام کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا لیکن اب اس میں نرمی پیدا کرلی ہے۔

ڈاکٹر محمودالزہار کا کہنا تھا کہ مصر کی موجودہ حکومت حماس کے خلاف ہے اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ ہمارے سیاسی روابط تو نہیں رہے لیکن ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی غزہ کی پٹی کو فراہمی کے سلسلہ میں مصر کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

واضح رہے کہ مصری فوج نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران غزہ کے ساتھ سرحدی علاقے میں بنائی گئی زیرزمین سیکڑوں سرنگوں کو تباہ کردیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی فوج کے محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی میں ایندھن اور دوسری اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔