.

چار معروف شامی کارکنان دمشق کے نواح سے اغوا

نامعلوم افراد کا الدوما میں انسانی حقوق کے علمبردار گروپ کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح سے نامعلوم افراد نے حکومت مخالف چار معروف کارکنان کو اغوا کر لیا ہے۔

صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ایک گروپ مقامی رابطہ کمیٹیوں (ایل سی سی) کی اطلاع کے مطابق''10 دسمبر کی صبح نامعلوم افراد نے محاصرے کا شکار مشرقی غوطہ کے علاقے الدوما میں شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل اکٹھی کرنے والے گروپ کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا اور اپنے ساتھ چار کارکنان کو اغوا کر کے لے گئے ہیں''۔

اس گروپ نے ان کارکنان کے نام رزان زیتونہ ،وائل حمدہ ،سمیرا خلیل اور ناظم الحمادی بتائے ہیں۔ان میں رزان زیتونہ شام کی معروف کارکن ہیں اور انھیں یورپی پارلیمان نے شام میں ان کے کام کے اعتراف میں 2011ء میں انسانی حقوق کا اعزاز دیا تھا۔وائل حمدہ ان کے خاوند ہیں۔وہ شامی تنازعے کے تمام فریقوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمے دار ٹھہرا چکی ہیں۔

ان کے اغوا کا واقعہ صوبہ دمشق میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں پیش آیا ہے لیکن شامی فورسز نے اس علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے۔ایل سی سی سے وابستہ ایک کارکن فارس محمد کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق سے قریب واقع اس علاقے میں بروئے کار حزب اختلاف کے ایک گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے ان کارکنان کو اغوا کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہم اس سلسلہ میں معلومات اکٹھی کررہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا سراغ لگانے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔

الدوما کے علاقے میں النصرۃ محاذ اور ریاست اسلامی عراق و شام سمیت مختلف جنگجو گروپ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑرہے ہیں۔ایل سی سی نے اغوا کے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کارکنان کوکوئی نقصان پہنچا تو اغوا کار اس کے ذمے دار ہوں گے۔اس تنظیم نے ان چاروں کی غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔