.

بکرعطیانی رہائی کے بعد دبئی پہنچ گئے

ہوائی اڈے پر استقبال کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے بیورو چیف فلپائن میں ابو سیاف نامی شدت پسند تنظیم کے ہاں اٹھارہ ماہ تک یرغمال رہنے کے بعد بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی پہنچ گئے ہیں۔ دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کے عزیز و اقارب اور العربیہ کے ساتھیوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ دبئی آمد کے بعد انہوں نے العربیہ کا دورہ کیا، جہاں کارکن ساتھیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

طویل عرصے تک مسلح گروہ کے ہاں یرغمال رہنے اور مشکل حالات میں دن گذارنے کے باعث بکرعطیانی مختلف بیماریوں کا بھی شکار ہوئے ہیں۔ باغیوں کی جانب سے رہائی کے بعد عطیانی فلپائن میں چند دن زیرعلاج رہے۔ جس کے بعد انہیں وہاں سے دبئی روانہ کر دیا گیا۔ عطیانی کو یرغمال بنائے جانے کے بعد فلپائن کے صوبہ "مینڈا ناؤ" کے جزیرہ سولو میں ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بکرعطیانی کو ڈیڑھ برس قبل فلپائن میں ابو سیاف نامی ایک شدت پسند تنظیم نے پیشہ روانہ امور کی انجام دہی کے دوران اغواء کر لیا تھا۔ عطیانی کی بازیابی کے لیے العربیہ ٹیلی ویژن چینل اور عالمی سطح پرمسلسل کوششیں کی جاتی رہیں۔

قبل ازیں "العربیہ" نیوز چینل کے نمائندہ عہدیدار نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ بکرعطیانی دوران اسیری مختلف نوعیت کے امراض کا شکار ہوئے ہیں۔ اسیری کے مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے سخت مصیبتیں برداشت کیں جس کے باعث عطیانی جسمانی طور پر بہت کمزور ہوئے ہیں۔ رہائی کے بعد انہیں فوری طور پر جبونی فپلائن کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں بنیاد طبی امداد اور ضروری چیک اپ کے بعد انہیں سفری دستاویزات کی تیاری کے سلسلے میں منیلا منتقل کر دیا گیا جہاں وہ چند روز زیر علاج رہے۔

یاد رہے کہ بکرعطیانی پاکستان، افغانستان اور جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں میں صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پانچ جون 2012ء کو فلپائن میں مسلمانوں کی حالت زار پرایک دستاویزی فلم تیار کرنے منیلا پہنچے تھے جہاں سے ابو سیاف نامی ایک شدت پسند گروپ نے انہیں اغواء کرلیا تھا۔ عالمی مساعی اور العربیہ ٹیلی ویژن کی مسلسل کوششوں سے چار دسمبرکو عطیانی کو رہا کر دیا گیا تھا۔