.

مصر:ججوں کا اخوان کی قیادت کے ٹرائل سے واک آؤٹ

ٹرائل کورٹ کے ججوں کا ''ضمیر کی وجوہ'' کی بنا پر مقدمہ سننے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سابق حکمراں اخوان المسلمون کی قیادت کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج واک آؤٹ کرگئے ہیں اور انھوں نے ''ضمیر کی وجوہ'' کی بنا پر مقدمہ سننے سے انکار کردیا ہے۔

اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور دوسرے قائدین کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔آج بدھ کو جب ان کے خلاف سماعت شروع ہوئی تو انھوں نے عدالت میں عدلیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کردی اور عدالتی کارروائی میں خلل ڈالا جس کے بعد تین جج صاحبان عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ اس مقدمےکی کارروائی روکی گئی ہے۔29 اکتوبر کو پولیس اخوان المسلمون کے چھے سینیر کارکنان سمیت تمام مدعاعلیہان کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی تھی اور وہ سکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام بھی نہیں کرسکی تھی۔

عدالت کے جج محمد القرموطی نے کہا کہ ''ہم ان دونوں کیسوں سے دستبردار ہورہے ہیں اور ہم ان کیسوں کو واپس اپیل کورٹ کو بھیج رہے ہیں۔اب اپیل کورٹ کے جج کسی اور عدالت کو یہ دونوں کیس سماعت کے لیے بھیجیں گے۔اس دوران تمام مدعاعلیہان جیل میں قید رہیں گے''۔

ان جج صاحبان نے یہ بھی کہا ہے کہ ''وہ ضمیر کی وجوہ کی بنا پر ٹرائل نہیں کرسکتے''۔یہ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ٹرائل کے منصفانہ ہونے کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں اور انھوں نے ایک طرح سے اس کو نامنظور کیا ہے۔

عدالت میں مدعاعلیہان کی حکومت مخالف نعرے بازی کے بعد دوسرے مرحلے میں آنے والے ججوں نے بھی مقدمے کی سماعت سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔عدالت کے چیف جج مصطفیٰ سلامہ نے پینل کے دستبردار ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔

اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت ٹرائل 3 جولائی کو منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

مدعاعلیہان میں سے دو اخوان کے مرشد عام محمد بدیع اور مالی معاون خیرت الشاطر کے خلاف 30 جون کو قاہرہ میں ان کی جماعت کے ہیڈکوارٹرز کے باہر مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں نو افراد کی ہلاکت کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔پراسیکیوٹر نے ان پر لوگوں کو تشدد کی شہ دینے کا الزام عاید کیا ہے۔