.

مصر کی جامعات میں پولیس اور طلبہ میں جھڑپیں

جامعہ قاہرہ کے 7 اور اسیوط کی دو جامعات سے 18 طلبہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے خلاف اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت میں جامعات میں طلبہ کے مظاہرے شدت اختیار کرتے جارہے ہیں اور منگل کو طلبہ نے جامعہ قاہرہ اور جنوبی شہر اسیوط میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔پولیس نے ان طلبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

مصرکے ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ جامعہ قاہرہ کے طلبہ کیمپس کی حدود سے باہر مارچ کرنے کی کوشش کررہے تھے اور وہ ایک مرکزی چوک کی جانب جانا چاہتے تھے۔وہ سوموار کو جامعہ الازہر کے پندرہ طلبہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

پولیس نے انھیں مظاہرے سے روکنے اور منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔پولیس نے جامعہ قاہرہ کی جانب طلبہ اور دوسرے لوگوں کو جانے سے روکنے کے لیے خاردار تار بھی لگادیے تھے اور وہاں اپنی بکتربند گاڑیاں کھڑی کررکھی تھیں۔

اہرام آن لائن ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق حکام نے کیمپس کے دروازوں کے آس پاس سے سات طلبہ کو گرفتار کر لیا ہے۔اسیوط میں بھی دو جامعات میں پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ایک سکیورٹی افسر میجر جنرل ابوالقاسم ابوضیف کا کہنا ہے کہ وہاں اٹھارہ طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

قاہرہ میں جامعہ الازہر کے طلبہ اپنے بیس ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف اتوار سے احتجاج کررہے ہیں۔انھوں نے سوموار کو جامعہ کے باہر شاہراہوں کو بند کردیا اور انھوں نے پولیس اہلکاروں کی جانب پتھر اور پٹرول بم پھینکے تھے جس کے بعد جامعہ الازہر کے سربراہ نے پولیس کو ان کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

مصر کی مسلح افواج کےتحت عبوری حکومت نے حال ہی میں حکومت مخالفین کے مظاہروں کی روک تھام کے لیے ایک متنازعہ قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع اور ریلی کی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

خاص طور پر جامعہ الازہر کے طلبہ اور طالبات 3 جولائی کے فوجی اقدام کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔حکومت نے قاہرہ کے معروف چوکوں اور چوراہوں، میدان التحریر ،رابعہ العدویہ اور النہضہ اسکوائر کی جانب مظاہرین کو ریلیاں لے کر جانے سے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کررکھی ہے۔

درایں اثناء ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی عالمی اور مصری تنظیموں نے مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت سے مظاہرین پر تشدد کے واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان تنظیموں نے مصری پراسیکیوٹرز پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات میں پولیس کے خلاف منتخبہ تحقیقات کی ہیں۔انھوں نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات کو بالکل نظرانداز کردیا ہے اور ان کے ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔