.

''جوہری مسئلے کے حل یا تصادم کے دوراہے پر ہیں''

ارکان کانگریس فی الحال ایران پر پابندیاں نہ لگائیں: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ جوہری معاہدے کے حوالے اس امر پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کے خاتمے پر صدق دل سے آمادہ ہو جائے گا، تاہم انہوں نے امریکی قانون سازوں سے ایران پر نئی پابندیاں عاید نہ کرنے کیلیے کہا۔

جان کیری کا امریکی کانگریس کے ارکان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا '' میں ایران کے ساتھ ابتدائی نوعیت کی بات چیت سے سنجیدہ سوالوں کے ساتھ دور ہو گیا ہوں کہ آیا ایران ان آپشنز کو اختیار کرنے پر تیار ہے کہ نہیں جو اس حوالے ہو سکتی ہیں۔''

ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا '' یہ یقین کے ساتھ کہنا مشکل ہے کہ ایران نے اپنی جوہری سنگ میل تبدیل کر لیے ہیں، میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ اس بارے میں ابھی تک واضح نہیں ہوں اور نہ ہی ظاہر کی بنیاد پر کچھ کہنا درست ہو سکتا ہے۔''

ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا '' ایران کے بارے میں سب کچھ قابل بھروسہ نہیں ہے، اگر تاریخ کو سامنے رکھیں توہم سب کو شک کرنا چاہیے۔'' امریکی وزیر خارجہ نے کہا '' ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ کچھ دیے بغیر یہ موقع آیا ہے۔''

جان کیری نے قانون سازوں سے کہا کہ وہ ایران کیخلاف نئی پابندیوں کو ابھی تھامے رکھیں اور مذاکرات کیلیے وقت دیں۔ اس حوالے سے آنے والے چھ ماہ میں ایرانی سنجیدگی کا اندازہ ہو جائے گا۔

دوسری جانب ایران ان الزامات کا انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری توانائی کی آڑ میں جوہری بم بنانا چاہتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ''اگر ایران کی سنجیدگی کے عملی نتائج سامنے نہ آئے تو ہم آپکے پاس کچھ زیادہ کیلے آئیں گے، اس وقت میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ فی الحال مزید پابندیاں نہ لگائیں۔''

خیال رہے امریکی سینیٹرز رابرٹ مینید اور مارک کرک ایران کیخلاف نئی پابندیوں کی تیاری کر رہے ہیں، جو کانگریس کی اس سال کی چھٹیوں سے پہلے سامنے آجائیں گی۔ جان کیری نے کہا ''دنیا تاریخ کے ایک دوراہے پر کھڑی ہے، ایک راستہ جوہری تنازعات کے حل کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ تصادم کی طرف جاتا ہے۔''