.

''عالمی تنہائی کے شکار اسرائیل کے صدر سے ملاقات ممکن نہیں ''

ناجائز ریاست کو تسلیم کریں گے نہ رائے تبدیل کریں گے: ایرانی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اسرائیل کے صدر کی ایرانی صدر سے ملاقات کرنے کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا ہے جو چند روز پہلےکی گئی تھی۔ ایران کی طرف سے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یہ خواہش پروپیگنڈہ کے حربے کے طور پر کی ہے تاکہ جوہری معاہدے کے بعد اپنے تنہا ہونے کا ازالہ کر سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ '' اس طرح کے پروپیگنڈے کے حربے اسرائیل کیلے مفید ثابت نہیں ہوں گے۔'' چند روز قبل اسرائیلی صدر پیریز نے رپورٹرز کے سوال پر کہا تھا'' ایرانی صدر حسن روحانی سے کیوں ملاقات نہیں ہو سکتی ، میرے دشمن نہیں ہیں نہ ہی یہ شخصیات کا معاملہ ہے بلکہ یہ پالیسی سے متعلق معاملہ ہے۔'' اسرائیلی صدر کا یہ بھی کہنا تھا '' اس ملاقات کی پیش کش کا مقصد دشمنوں کو دوستوں میں بدلنا ہے۔''

ایرنی ترجمان مرزیخ افہام نے کہا '' میرا ملک صہیونی ریاست کو کبھی تسلیم کرے گا نہ اس کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا '' ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا کہ یہ مکمل طور پر ایک غیر قانونی اور ناجائز ریاست ہے۔''

واضح رہے اس سے پہلے اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکا ہے