.

''نئے شام ''میں بشارالاسد کا کردار نہیں ہو گا

مشترکہ فوجی کمان کی تشکیل پر اتفاق، خلیجی تعاون کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل کے دو روزہ سالانہ اجلاس اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں شام میں موجود تمام غیر ملکی فورسز کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے دوٹوک کہا گیا ہے کہ بشارالاسد کا ''نئے شام ''میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

اعلامیے میں خیلج تعاون کے رکن ممالک کی مشترکہ فوجی کمان کی تشکیل اور مشترکہ پولیس فورس کے قیام کے بارے میں اتفاق ظاہر کیا گیا ہے۔

چھ ملکی تعاون کونسل نے شام میں سرکاری افواج کے ذریعے اپنے ہی شہریوں کیخلاف بھاری اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی پرزور مذمت کرتے ہوئے معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایران کے درست سمت پر آتے ہوئے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ کرنے، نیز خیلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ معاملات کی بہتری کی خواہش کی ستائش کی اور کہا اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات ہی خطے کے امن پرمثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

خطے کی اندرونی سلامتی کیلیے مشترکہ پولیس کی طرح مجموعی سلامتی اور تعاون کے تقاضوں کے تحت مشترکہ فوجی کمان کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

سربراہی کانفرنس میں خلیجی ممالک کی 32 سالہ تعاون کونسل کو ایک یونین بنانے کے ایشو پر سعودی عرب اور اومان کے درمیان بحث کا بھی جائزہ لیا گیا۔ واضح رہے اس معاملے پر بحرین شروع سے ہی سعودی تجویز کا حامی ہے، اب کویت اور قطر بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ البتہ متحدہ عرب امارات نے اپنی رائے ابھی ظاہر نہیں کی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ تصور 2011 میں پہلی مرتبہ سامنے آیا لیکن بعد ازاں اس پر خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی نے انہی دنوں کہا ہے کہ ان کا ملک تعاون کونسل کو یونین بنانے پر قطعی تیار نہیں ہے۔