جان کیری '' فریم ورک ایگریمنٹ'' پر بات کیلیے اسرائیل پہنچ گئے

وزیر خارجہ کا یہ نواں دورہ ہے، فلسطینیوں کو رام کرنے کی کوششیں تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے نویں دورے پر جمعرات کے روز مشرق وسطی پہنچ گئے ہیں۔ وہ جمعرات اور جمعہ کے دو دن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ایک سے زائد بار ملیں گے۔

جان کیری ایک ہی ہفتے کے دوران دوسری بار یہاں پہنچنے کی بنیادی وجہ مغربی کی سکیورٹی سے متعلق اپنی تجاویز پر مزید بات چیت ہے، جسے فلسطینی قیام امن کی راہ میں بجائے خود ایک رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے جان کیری نے اپنے اس نئے منصوبے کے پرت اپنے پچھلے دورے کے موقع پر کھولے تھے۔ اس سلسلے میں نیتن یاہو سے تفصیلی تبادلہ خیال کے علاوہ محمود عباس سے بھی لگ بھگ چار گھنٹے کی ملاقات کی تھی۔

دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی کے مطابق اس منصوبے پر سلسلہ جنبانی جاری ہے۔ جین پاسکی کا کہنا ہے کیری سکیورٹی کے ساتھ ساتھ دوسرے ایشو پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

اسرائیلی مذاکرات کار زیپی لیونی اور فلسطینی صائب ایرکات سے پیر کے واشنگٹن میں بھی امریکی ذمہ داروں اس بارے میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ فریقین کے یہ نمائندے واشنگٹن میں مشرق وسطی کے بارے میں ایک کانفرنس کیلیے موجود تھے۔ کانفرنس میں اوباما اور جان کیری کے علاوہ نیتن نے بھی شرکت کی تھی۔

اسی روز فلسطین کے ایک سینئیر رہنما نے امریکی وزیر خارجہ کی نئی کوششوں کو پچھلے وعدوں کے منافی قرار دیا اور کہا نئی کوششیں حتمی امن معاہدے کے بجائے عبوری بندوبست کی کوشش ہے ۔'' تاہم امریکا نے اس امر کی تردید کی ہے۔

فلسطینی سمجھتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ اسرائیلی سلامتی کے حوالے سے تو جزئیات تک جا رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے لیے تجاویز محض اوپری اوپری اور سطحی نوعیت کی ہیں۔

واضح رہے صدر اوباما اور جان کیری نے پچھلے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا '' امریکا ایک فریم ورک ایگریمنٹ کیلیے کوشاں ہے، تاہم دونوں اس سلسلے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی تھی۔ البتہ یہ امریکی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا کسی عارضی حل کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

درین اثنا جان کیری اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ امن مذاکرات میں پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے کہ اسرائیلی سلامتی سے متعلق اسرائیل کی فکرمندی کو مد نظر رکھا جائے۔ گزشتہ ہفتے پیش کیے گئے سکیورٹی سے متعلق منصوبے میں اردن اور فلسطینی ریاست کے درمیان سرحد کا تعین بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں