خلیجی ممالک کی مشترکہ فوجی کمان، اتحاد کی طرف قدم؟

ماہرین اس فیصلے کو امریکا اور ایران دونوں کیلیے پیغام سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے بدھ کے روز سلامتی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کیلیے مشترکہ فوجی کمان کا ڈھانچہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یوں 1981 سے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق امور میں ایک دوسرے سے تعاون کیلیے قائم یہ چھ رکنی تنظیم ایک قدم آگے بڑھنے کی تیاری میں ہیں۔

جمہوریت کے دفاع سے متعلق فاونڈیش سے منسلک ڈیوڈ وین برگ کا اس اہم فیصلے کے بارے میں کہنا ہے کہ '' یہ خلیج تعاون کونسل کے اتحاد کی طرف پیش رفت ہے۔''

وین برگ کے مطابق '' چھ رکنی خلیج تعاون کونسل مشترکہ ثقافتی، سیاسی اور تذویراتی ورثے کے حوالے سے ایک ہیں، اسی لیے حالیہ اجلاس میں ایک قابل لحاظ پیش رفت پر اتفاق کیا گیا ہے۔''

بدھ کے روس اجلاس کے اختتامی مرحلے پر تعاون کونسل نے خطے کیلیے ایران کی نئی سمت کی اپروچ کی بھی تحسین کی ہے، تاہم ایران کی نئی سوچ کو عملی اور ٹّھوس اقدامات کے حوالے سے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ تاکہ خطے پر واقعتا مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

پورا خطہ ایران کے جوہری پروگرام پر ناراضگی کا تاثر رکھتا ہے۔ عمومی خیال یہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے ایران سے اس خطرے سے نمٹنے کیلیے ایک فوجی اقدام کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جاتا ہے۔

بعض ماہرین تو مشترکہ فوجی کمان کے فیصلے کو بنیادی طور پر ایران کی طرف سے خطرے کی پیش بندی کے تحت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر خلیج تعاون کونسل کا قیام خلیج اور مشرق وسطی میں ایرانی اثرات کو روکنے کیلیے ہی عمل میں لایا گیا تھا۔

خلیجی سیاست اور امور کے ماہر پروفیسر میٹو لیگرینزی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ '' خلیجی ملک اکٹھے ہو کر کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور یہ ایران کے ساتھ تصادم کو بھی تیار ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا '' ان ملکوں کا نیا فیصلہ ایران اور امریکا دونوں کیلے علامتی مفہوم کا حامل ہے۔''

پروفیسر لیگرینزی کے بقول '' امریکا کو پیغام دیا گیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل امریکی پالیسیوں سے خوش نہیں ہے، خصوصا شام اور ایران کے بارے میں امریکا کے نئے رجحانات سے۔''

اہم ترین ملک سعودی عرب تو واضح طور پر سمجھتا ہے کہ امریکا ایران کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرتے ہوئے خلیج کے مفادات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ البتہ قطر اور اومان شیعوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ خطرات صرف ایران کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ اومان اور جنوبی یمن کے اپنے مسائل ہیں۔ ممتاز ماہر الشیلامی کا کہنا ہے کہ مشترکہ کمان کی تشکیل سے مختلف النوع اسلحے تک دسترس ہو گی، کیونکہ خلیجی ممالک مختلف ملکوں فرانس، برطانیہ اور امریکا وغیرہ سے اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ''مشترکہ کمان کے بعد ضروری حد تک خلیجی ممالک کی افواج زمینی لڑائی کیلیے مربوط ہو سکیں گی اور بتدریج ایک نئی فوجی قیادت سامنے آسکے گی۔ جو پورے خطے کی سلامتی سے متعلق ایک سکیورٹی ویژن رکھتی ہو گی۔''

سعودی گزٹ کے ایڈیٹر انچیف خالدالمعینا نے اس بارے میں کہا '' نئی اعلان کردہ مشترکہ کمان کے بارے میں ابھی کافی سوال ایسے ہیں جن کا جواب سامنے آنا ضروری ہے ، کیونکہ جب سے خلیج تعاون کونسل بنی ہے فوجی شعبے میں اس سطح کا تعاون نہیں سامنے آیا تھا۔''

خالد المعینا نے کہا نیٹو افواج میں قیادت کا ایک واضح ڈھانچہ موجود ہے، لیکن کیا خلیجی مشترکہ کمان ایک ہی ملک پر بھروسہ کریگی ؟ انہوں نے کہا ''میرے خیال میں یہ نیٹو طرز کی فورس ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں