بغداد میں حراستی مرکز سے 22 مشتبہ دہشت گرد فرار

دو محافظوں کو قتل کرنے کے بعد بھاگنے والوں میں سے بعض دوبارہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک حراستی مرکز سے بائیس مشتبہ دہشت گرد دو محافظوں کو قتل کرنے کے بعد فرار ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ مشتبہ افراد بغداد کے علاقے کاظمیہ میں واقع ایک حراستی مرکز سے فرار ہوئے تھے۔تاہم مفروریوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایک پولیس کرنل کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح قیدیوں نے حراستی مرکز کے محافظوں سے اسلحہ چھین کر ان پر فائرنگ کردی جس سے دو محافظ مارے گئے۔اس کے بعد دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیے گئے چھبیس قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اس پولیس کرنل کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک کو ہلاک کردیا ہے اور چودہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ایک ڈاکٹر نے بھی دو محافظوں اور ایک قیدی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ آٹھ قیدی ابھی تک مفرور ہیں جبکہ وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بائیس قیدی فرار ہوئے تھے۔ان میں سے ایک کو ہلاک کردیا گیا اور تین کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی مشتبہ دہشت گرد ابھِی تک مفرور ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی میں عراقی جنگجوؤں نے بغداد کے نواح میں واقع دو جیلوں پر بڑا مربوط حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی چھڑ گئی تھی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی تھی۔اس دوران پانچ سو سے زیادہ قیدی ان دونوں جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔القاعدہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں عراقی سکیورٹی فورسز کے بیس اہلکار اور اکیس قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں