جان لیوا سردی سے حلب میں دسیوں قیدی اور ننھے بچے جاں بحق

برفانی طوفان سے شامی پناہ گزینوں کی زندگیاں خطرات میں گھر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں حکومت کے جبرو تشدد کے نتیجے میں گھر بار چھوڑنے والے لاکھوں باشندوں کو اندرون اور بیرون ملک کہیں بھی امن وعافیت نہیں مل سکی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ مسلسل برفباری اور جان لیوا سردی سے جیلوں میں قیدیوں اور خیمہ بستیوں میں پناہ گزینوں کی زندگیاں مزید خطرات میں گھر چکی ہیں۔ سخت سردی کے باعث حلب کی ایک سرکاری جیل میں حراست میں رکھے گئے دس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ پناہ گزین کیمپوں اور حراستی مراکز میں ہزاروں افراد سخت سردی کے باعث کئی امراض کا شکار ہیں۔ ان مریضوں کے لیے علاج کا کوئی انتظام ہے نہ گرم کپڑوں کی فراہمی کا کوئی بندوبست ہے۔

"العربیہ" کی ایک ٹیم نے لبنان کی وادی بقاع کے زحلہ شہر میں شامی پناہ گزینوں کی 100 خیموں پر مشتمل بستی کا دورہ کیا۔ متاثرین کے کیمپ میں بارش، برفانی کیچڑ، خیموں کے اندر گھسا پانی، ٹھٹرتے بچے اور خواتین ایک ہی وقت میں کئی کئی عذاب جھیل رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی خیموں میں بیٹھ سکتے ہیں نہ وہاں آرام کا کوئی انتظام ہے۔ آگ جلانے کے لیے ان کے پاس ایندھن کا کوئی سامان نہیں۔ حرارت کے حصول اور جان لیوا سردی کا اثر کم کرنے کے لیے اپنے جوتے جلانے اور کپڑے مجبور ہیں۔

کچھ خیموں میں ٹائر جلتے بھی دیکھے گئے اور کہیں کاغذ جمع کرکے ان انہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گرم کپڑے تو درکنار بیمار بچوں کے لیے بنیادی طبی سہولت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ خوراک کی شدید قلت ہے۔ گوکہ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لئے ریلیف پروگرام کے تحت پناہ گزینوں کو فی کنبہ اٹھائیس ڈالر مالیت کا ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے مگر وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ثابت ہوتا ہے۔

شامی پناہ گزینوں کی یہ حالت زار صرف کسی ایک خیمہ بستی تک محدود نہیں بلکہ شام سے بیرون ملک ھجرت کرنے والے 22 لاکھ اوراندرون ملک پناہ گزین کیمپوں میں مقیم 60 لاکھ پچاس ہزار پناہ گزینوں کی کہانی ایک جیسی ہے۔ پہلے شامی پناہ گزینوں کے بچے خوراک اور ادویہ کی قلت سے مر رہے تھے اور انہیں سردی اور برفانی طوفان کی صورت میں ایک نئے عذاب کا سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب، اردن اور تائیوان کی جانب سے بڑی تعداد میں برف اور سخت سردی سے بچاؤ میں مدد دینے والے شیلٹرز بھی فراہم کیے گئے ہیں لیکن وہ تمام پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ بیرون ملک نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کسی نہ کسی شکل عالمی امدادی ادارے کام کر رہے ہیں مگر اندرون ملک شورش کے باعث برفانی موسم میں پناہ گزین کیمپوں تک پہنچنا زیادہ دشوار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں