ریاض میٹرو کا 40 فی صد روٹ زیر زمین ہو گا

یومیہ 1.16 ملین شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں اندرون شہرمیٹرو بس کے بے مثال پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاض میٹرو بس سروس" کا چالیس فی صد روٹ زیرِ زمین ہو گا جس کے نتیجے میں میٹرو دوسری ٹریفک کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی اور دوسری ٹریفک سے میٹرو کی نقل حرکت میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔

عرب روزنامہ "الشرق" نے ریاض ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر تعمیرات انجینیئر خالد الھزانی کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کو شہر کی آبادی، سیکیورٹی اور اقتصادی ضروریات کے پیش نظر ترتیب دیا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں ریاض میٹرو بس سروس اہم ترین منصوبہ ہے، جو شہر کی تعمیرو ترقی میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ انفراسٹرکچر کی بہتری میں ممد ومعاون ثابت ہو گا۔

ریاض ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کو رواں رکھنے کے لیے ریاض میٹرو بس سروس کا 40 فی صد روٹ زیر زمین اور 60 فی صد سطح زمین پر بنایا جا رہا ہے۔ اسی روٹ کے ساتھ ساتھ ریاض ٹرین سروس کی لائنیں بھی بچھائی جا رہی ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ریاض کا نقشہ تبدیل ہو جائے، جس سے شہر کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی تیز رفتار اور آرام دہ سہولت میسر ہوگی۔

انجینیئر خالد الھزانی کا کہنا تھا کہ ریاض ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہرکی تعمیرو ترقی کے لیے ایسا نقشہ تیار کیا ہے جس کے تحت آج سے شروع کیے گئے منصوبے پچاس سال بعد بھی مفید ثابت ہوں گے۔ میٹرو بس اور ٹرین سروس ان میں سے ایک ہے جس پر آج سے گیارہ سال قبل کام شروع کیا گیا تھا۔

سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ریاض ٹرین سروس کی بوگیوں اور روٹ کا یکساں ڈیزائن اختیارکیا گیا ہے۔ ماہرین نے ٹرین سروس کے لیے چھ الگ الگ روٹ مختص کیے ہیں۔ ہر روٹ کی ٹرینوں کے لیے الگ رنگ مختص کیا گیا ہے۔ وادی بطحا کے بالائی روٹ پر نیلے رنگ کی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ شاہ عبداللہ روڈ پر چلنے والی بسوں اور ٹرینوں کے لیے سُرخ مدینہ منورہ میں شاہ سعد بن عبدالرحمان اول روٹ کے لیے پیلا رنگ، شاہ عبدالعزیز روڈ کی میٹرو کے لیے سبز۔ عبدالرحمان بن عوف اور الشیخ حسن بن حسین روڈ پر بنفشی رنگ کی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

انجینیئرالھزانی کا کہنا تھا کہ ریاض میں چلائی جانے والی ٹرین اور میٹرو بس سروس میں وائر لیس انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے آغاز میں 200 بوگیاں فراہم کی جائیں گی جبکہ اگلے مرحلے میں ان کی تعداد 338 تک پہنچ جائے گی۔ ٹرین اور بس سروس سے یومیہ گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار افراد استفادہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں