شامی فوج کی دمشق کے نواح میں باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی

باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں حکومت نواز ملیشیا کے 18 جنگجو اور 15 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج نے جمعہ کو دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں واقع قصبے عذرا میں باغی جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔

یہ صنعتی قصبہ شامی دارالحکومت کی جانب جانے والی شاہراہ پر واقع ہے اور یہاں گذشتہ تین روز سے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔

شامی فوج نے حالیہ دنوں میں صوبہ دمشق میں باغی جنگجوؤں کے مقابلے میں میدان جنگ میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور باغیوں کو مختلف محاذوں سے پسپا ہونا پڑا ہے جبکہ جن علاقوں میں ان کا کنٹرول ہے ،ان کا شامی فوج نے محاصرہ کررکھا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''ہماری مسلح افواج نے آج صبح عذرا پر ایک بڑا حملہ کیا ہے اور اس کا محاصرہ کر کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے''۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور سرکاری میڈیا صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے تمام باغیوں کو دہشت گرد قراردیتے ہیں۔

عذرا میں گذشتہ دوروز کے دوران اسلامی جنگجوؤں نے شامی سکیورٹی فورسز اور فوج کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے اور جھڑپوں میں حکومت نواز ملیشیا کے اٹھارہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

بدھ اور جمعرات کو باغیوں کے حملوں میں پندرہ شہری بھی مارے گئے ہیں۔ان میں زیادہ تعداد صدر بشارالاسد کے علوی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔اس قصبے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے دس افراد کو حکومت کے ساتھ تعاون کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔اس قصبے میں دروز ،سنی ،علوی شیعہ آباد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں