.

سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری تک امریکی فوج اردن میں رہے گی

امریکا، اردن میں اپنے 1500 فوجی برقرار رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اردن میں موجود اپنے پندرہ سو فوجیوں کو سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک وہیں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امر کی تصدیق وائٹ ہاوس نے امریکی کانگریس کے سامنے جمعہ کے روز کی ہے۔

اردن میں موجود امریکی فوجی دستے میزائل شکن پیڑیاٹ سسٹم اور لڑاکا جہازوں پر مشتمل ہیں۔ بقول وائٹ ہاوس عمان کو ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات درپیش ہیں جس کے باعث فی الوقت پندرہ سو امریکی فوجیوں کو اردن میں ہی رہنے دیا جا رہا ہے۔

امریکا کے قریبی اتحادی شاہ عبداللہ ثانی کی حکومت کو ان دنوں شام میں خانہ جنگی کی صورتحال کے باعث مہاجرین کے سیلاب کا سامنا ہے۔

وائٹ ہاوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی، عمان حکومت کے ساتھ مکمل کوارڈی نیشن کے بعد اردن میں ہی موجود رہیں گی۔ یہ فوج سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری یا اس وقت تک اردن میں ہی تعینات رہے گی کہ جب عمان خود اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ امریکی فوج کی اردن میں مزید ضرورت نہیں رہی۔

امریکی وائٹ ہاوس نے کانگریس کی جانب سے ایک لازمی نوٹس کی تعمیل کرتے ہوئے یہ تفصیلات منتخب ایوان میں گذشتہ روز پیش کیں۔ رپورٹ میں اردن کے علاوہ دنیا کے متعدد دوسرے ملکوں میں بھی امریکی فوج کی موجودگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔
کانگریس میں پیش کردہ وائٹ ہاوس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوجی نائیجریا میں بھی تعینات ہیں جہاں وہ فرانسیسی فوج کو مالی میں کئے جانے والے آپریشن کے لئے خفیہ معلومات جمع کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے تاکہ شمالی مالی میں اسلامی شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے آگے بند باندھا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے ایک سو بیس فوجی افریقی یونین کی علاقائی ٹاسک فورس کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ جوزف کونی سمیت لارڈز مزاحتمی فوج کے دیگر رہنماوں کی گرفتاری میں مدد فراہم کر سکے۔
جوزف کونی یوگنڈا سمیت دوسرے ہمسایہ ملکوں میں انسانیت کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں کی پاداش میں بین الاقوامی جرائم عدالت کو مطلوب ہیں۔

وائٹ ہاوس کے مطابق آپریشنل کارروائیوں کی غرض سے امریکی فوج جمہوریہ جنوبی سوڈان، عوامی جمہوریہ کانگو اور وسطی افریقی جمہوریہ میں بھی تعینات ہیں۔