.

مصری دستور پر ریفرنڈم کے لیے 14، 15 جنوری کی تاریخ مقرر

عبوری صدر جلد دستور ساز کمیشن کے اجلاس سے خطاب کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج کی نگرانی میں مرتب کردہ نئے عبوری "متنازعہ" آئین پر عوامی ریفرنڈم کے لیے 14 اور15 جنوری 2014ء کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ مصری ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پچاس رکنی آئین ساز کمیشن کے وضع کردہ دستور کوعوام کے سامنے منظوری کے لیے پیش آئند سال وسط جنوری کی تاریخوں کا حتمی اعلان کر دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز دستور ساز کمیشن کا اجلاس چیئرمین عمرو موسیٰ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں آئین پر ریفرنڈم کے اعلان کے بعد عمرو موسیٰ کا کہنا تھا کہ نئے دستور میں تمام طبقات کے حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔

قبل ازیں مصری میڈیا پر یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ دستور پر ریفرنڈم کے لیے جنوری دو ہزار چودہ کے دوسرے ہفتے میں کسی تاریخ کا اعلان ہو سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئین کے نقشہ راہ کے مطابق دستور پر ریفرنڈم ایوان صدر کا استحقاق اور اس کی ذمہ داری ہے۔ ایوان صدر ہی مصر کے مستقبل کے حوالے سے وضع کردہ نقشہ راہ پر ریفرنڈم کی تاریخ جاری کرنے کا مجاز ہے۔

دستوری کمیشن کے پیش آئند اجلاس میں عبوری صدر عدلی منصور خطاب کریں گے۔ اجلاس میں تمام مستقل اور مبصر ارکان موجود رہیں گے۔

خیال رہے کہ مصر میں نئے آئین کے لیے کوششیں جولائی کے آغاز میں سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کی معزولی کے بعد شروع ہو گئی تھیں۔ پانچ ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد فوج کی نگرانی میں نیا آئین مرتب کیا گیا ہے۔

مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ نئے عبوری آئین کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد ووٹ ڈالے گی تاہم کالعدم جماعت اخوان المسلمون کی جانب سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے باعث ریفرنڈم کا عمل متاثر ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ملک کی سب سے بڑی اور منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون فوج کی نگرانی میں تیار کردہ آئین کو مسترد کرچکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریفرنڈم کے لیے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 53 ملین، تین لاکھ اور 77 ہزار ہے۔ سنہ 2012ء میں اخوان المسلمون کی نگرانی میں کیے گئے عوامی ریفرنڈم میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 51 ملین، نو لاکھ 19 ہزار تھی۔