.

نئے مصری دستور کیلیے ریفرنڈم کی تاریخ کا آج اعلان متوقع

عدلی منصور اپنی نامزد کردہ 50 رکنی کمیٹی کی موجودگی میں اعلان کرینگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوجی حمایت سے قائم عبوری حکومت کے سربراہ عدلی منصور اپنی نامزد کردہ 50 رکنی دستور ساز کمیٹی کے ہمراہ نئے مسودہ دستور کیلیے ریفرنڈم کی تاریخ کا اعلان آج کسی وقت کردیں گے۔

عبوری حکومت کے حکام کے مطابق پہلے ریفرنڈم جنوری کے وسط میں دیکھا جا رہا تھا تاہم بعد ازاں دستور میں کچھ سقم سامنے آنے کے باعث کسی تاریخ کے فوری اور حتمی طور پر سامنے لانے کے بجائے اصلاح ضروری ہوگئی۔ اس سلسلے میں عبوری صدر کی اپنے مشیران کے ساتھ مشاورت چلتی رہی۔

دوسری جانب 50 رکنی دستور ساز کمیٹی کے سربرہ عمرو موسی نے کمیٹی کے تیار کردہ مسودہ دستور کا دفاع کرتے ہوئے اسے 21 ویں صدی کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا مسودہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا '' نیا دستور جمہوریت اور آزادی کا ضامن ہے ۔''

ان کا یہ اس کے باوجود کہنا تھا کہ اس دستوری مسودے پر تنقید کرنے والے اس میں مصری فوج کے کے بڑھے ہوئے کردار کو جمہوری روح کے منافی قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے نئے مسودہ دستور کے تحت مصری وزیر دفاع فوج کی مرضی سے مقرر کیا جائے گا۔ شہریوں کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جا سکیں گے۔

عمرو موسی نے آئین میں تجویز کردہ فوجی اختیارات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ''مصری قوم کو اپنی فوج کی پشتی بانی کرنا ہو گی۔ عمرو موسی کا موقف ہے کہ ''مسلح افواج کی پورے ملک میں عزت ہے اور ان پر حملے بھی ہوتے ہیں، وہ ہر روز افسروں اور سپاہیوں کی قربانی پیش کرتی ہیں۔''

انہوں نے مزید کہا '' اس امر پر اتفاق ہے کہ ملک ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، مسلح افواج پر حملے ہو رہے ہیں، اس لیے ہمیں فوج کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔''

آئین کی تیاری کے لیے نامزد کردہ پچاس رکنی کمیٹی میں ایک حاضر سروس جرنیل کی قیادت میں فوج کی نمائندگی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جنہوں نے بھرپور انداز میں حکومت مین فوج کے کردار کو مسقبل میں آئینی جواز دلانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

نئے تجویز کردہ مسودہ دستور میں ان اسلامی شقوں کے اخراج کا بھی کامیابی سے اہتمام کیا گیا ہے جو پچھلی منتخب اور جمہوری حکومت نے عوامی ریفرنڈم کے ذریعے آئین کا حصہ بنائی تھیں۔ اس حوالے سے اہم بات مذہبی بنیادوں پر قائم سیاسی جماعتوں کا راستہ روکنے کیلیے کیے گئے اقدامات ہیں۔

ریفنڈم کے بعد پارلیمانی انتخابات اور صدارتی انتخابات کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ امکان ہے اگلے سال کی پہلی ششماہی میں انتخابی عمل مکمل کر لیا جائے گا۔