.

الیکسا برفانی طوفان سے غزہ، غرب اردن اور اسرائیل میں زندگی مفلوج

ڈیڑھ صدی بعد شدید برف باری نے لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں سردی کی حالیہ لہر نے فلسطین اوراسرائیل کوبھی اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔ برفانی طوفان "الیکسا" سے متاثرہونے والوں میں محصور فلسطینی شہرغز کی پٹی کے عوام ایک نئی قدرتی آفت کا سامنا کر رہے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام مغربی کنارے کے متعدد شہروں اور اسرائیل میں بھی نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو کررہ گیا ہے۔ ان علاقوں کے عوام مقامی حکومتوں کو برفانی طوفان کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

خیال رہے کہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے زیرتسلط شہروں میں ڈیرھ صدی قبل ایسی غیرمعمولی برف باری ہوئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہروں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور اسرائیلی شہروں میں شدید برفباری، سرد ہواؤں اور بارش کے باعث بجلی، مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ کاروباری زندگی پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی حکومتوں کو اس برف باری نے کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی میں برف باری اوربارشوں نےحکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ بارش کے نتیجے میں ہزاروں مکانات پانی میں ڈوب چکے ہیں اور شہری حکومت پر سخت برہم دکھائی دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حماس نے شہریوں کی فلاح وبہبود اور بحرانوں سے بچنے کے لیےجو دعوے کر رکھے تھے وہ پورے نہیں ہو پائے ہیں۔

غزہ سے فلسطینی شہریوں نے"العربیہ" سے بات کرتےہوئے بحرانی صورت حال سے آگاہ کیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ طوفانی بارشوں کے باعث عوام پہلے ہی سنگین مشکلات سے دوچارتھے۔ رہی سہی کسراسرائیل کی جانب سے ڈیموں کا پانی چھوڑنے اور سیورج لائنوں کی ٹوٹ پھوٹ نے پوری کردی۔ اس وقت ہزاروں مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

غزہ حکومت کے وزیر ہاوسنگ نے اعتراف کیا ہے کہ بارشوں اور طوفانی برفباری کے نتیجے میں حکومت کو کم سے کم چونسٹھ ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ شہر میں تین ہزار تین سو مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں جس کے نتیجے میں سات ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے قیام کے بعد گذشتہ سال سال سے اسرائیل نے شہر کی بری اور بحری راستوں سے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ مصر کی طرف سے غزہ کی واحد بین الاقوامی رفح گذرگاہ بھی بند کی جا چکی ہے، جس کے باعث ڈیرھ ملین آبادی کھلی جیل میں تبدیل قید ہے۔

تازہ موسمی تبدیلی اورسردی کی شدت میں اضافے کے بعد غزہ شہر میں بیرون ملک سے گیس اور ایندھن کی سپلائی معطل ہوچکی ہے، جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کل اتوار کوقطر کی جانب سے ایندھن کی کچھ مقدار محصورین شہر کے لیے بھجوائی گئی تھی۔ صدر محمود عباس نے اردن کے راستے پہنچنے والی اس امداد کو فوری طور پر غزہ کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

مغربی کنارے میں زندگی مفلوج

غزہ کی پٹی کی طرح فلسطین کے دوسرے شہروں مغربی کنارے اور اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں میں بھی نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مغربی کنارے کے بالائی شہر الخلیل میں کم سے کم ایک میٹر برف باری ہوئی ہے۔ شدید برف باری کے نتیجے میں غرب اردن کے تمام شہروں میں بجلی، مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بجلی کا نظام معطل ہونے سے شہر اندھیرے میں اور مکان پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے کے شہروں کے درمیان رابطہ سڑکیں بند ہیں، تاہم پولیس نے ایک مرکزی شاہراہ کو کھولنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خراب موسم میں گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے"الیکسا" برفانی طوفان کے باعث ہونے والی تباہی اور معاشی خسارے کے بارے میں کہا کہ موجودہ حالت میں تباہ کاری کا حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم معیشت کو پہنچنے والا نقصان کروڑوں ڈالرز میں ہی ہوسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس رواں سال سے کہیں کم برف باری ہوئی تھی تب بھی فلسطینی اتھارٹی کو تیس ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

فلسطینی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برف باری اور بارشوں کا سلسلہ تھم گیا ہے مگرمطلع مزید کئی دن تک ابرآلود رہے گا، کہیں کہیں بارش اور بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری کا بھی امکان ہے۔

اسرائیلی ترقی کے دعووں کی قلعی کھل گئی

درایں اثناء اسرائیلی علاقوں میں برف باری اور تیز بارشوں کے نتیجے میں غیرمعمولی تباہی کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو عوامی اور ابلاغی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

اخبار"یدیعوت احرونوت" نے حکومت کے ناقص اقدامات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "برف باری اور بارش کی ایک جھلک نے صہیونی ریاست کو واپس انیسویں صدی میں پہنچا دیا ہے"۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ حالیہ برف باری نے ثابت کردیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق حکومتی اقدامات محض فراڈ اورعوام کے ساتھ دھوکہ ثابت ہوئے ہیں۔

ایک دوسرے عبرانی اخبار"معاریف" کی رپورٹ کے مطابق حالیہ موسمی تغیرات، طوفانی بارشون اور برف باری سے ملکی معیشت کو ایک سو بیس ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ حکومت شہریوں کی زندگیاں بھی نہیں بچا سکی ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاھو عوام سے دھوکہ کر رہے ہیں۔ ان کی حکومت کے ناقص انتظامات کے باعث چار شہری جاں بحق ہوگئے۔ بیت المقدس کے سولہ ہزار گھر چالیس گھنٹے تک اندھیرے اور پانی میں ڈوبے رہے۔