.

عراق: تباہ کن بم دھماکے اور خودکش حملے، 42 افراد ہلاک

شمالی شہروں بیجی اور تکریت میں خودکش بم حملوں کے بعد کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مختلف علاقوں میں سوموار کو تباہ کن بم دھماکوں اور کار بم حملوں میں بیالیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت بغداد میں پے درپے متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں نوافراد مارے گئے۔بغداد کے علاقے البائعا اور النہضہ میں دو کار بم دھماکوں میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے عراقی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغداد کے علاقوں الصالحیہ ،الکرادہ ،الصدریہ ،الحسینیہ ،العلام کوارٹر ،دیالا پل اور محمد القاسم موٹروے پر بم دھماکے ہوئے ہیں۔

بغداد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تین کاربم دھماکوں اور ایک کار کے ساتھ مقناطیس سے چپکائے گئے بم کے دھماکے میں پچیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بغداد سے 180 کلومیٹر شمال میں واقع قصبے بیجی میں ایک پولیس اسٹیشن پر بم حملے کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

چار خودکش بمباروں نے پولیس تھانے میں زیر حراست اپنے مشتبہ ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے دھاوا بول دیا تھا۔تاہم بعد میں پولیس نے کارروائی کرکے دوبارہ تھانے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

ادھر شمالی شہر تکریت میں شہری کونسل کے ہیڈ کوارٹرز میں کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے بعد جنگجوؤں نے عمارت پر قبضہ کر لیا۔انھوں نے عمارت میں موجود افراد کو یرغمال بنالیا۔العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق حملہ آوروں نے تکریت کونسل کے سربراہ سمیت متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا۔

عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح نوری نے بتایا ہے کہ سٹی کونسل کی عمارت میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ہماری فورسز نے ایک خودکش بمبار کو ہلاک کردیا ہے لیکن دو نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

تکریت میں بھی مسلح جنگجوؤں کے اس حملے کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا اور اسکولوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں مسلح افراد نے ایک بس پر فائرنگ کردی جس سے بارہ مسافر مارے گئے ہیں۔

گذشتہ روز موصل میں مسلح افراد نے ایک ٹیلی ویژن چینل کی پیش کار نورس النعیمی کو ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی تھی۔ وہ موصل میں اکتوبر کے بعد قتل ہونے والی پانچویں صحافیہ ہیں۔ اتوار کو بغداد اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں میں فائرنگ کے واقعات میں انیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔