.

عراق: تشدد کے واقعات میں ٹی وی پیش کار سمیت 19 ہلاک

شمالی شہر موصل میں خاتون صحافیہ مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک ٹی وی پیش کار سمیت انیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق شمالی شہر موصل میں مسلح افراد نے ایک ٹیلی ویژن چینل کی پیش کار نورس النعیمی کو ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی جس سے وہ ماری گئی ہیں۔وہ موصل میں اکتوبر کے بعد قتل ہونے والی پانچویں صحافیہ ہیں۔

اتوار کو سب سے تباہ کن بم حملہ صوبہ دیالا کے علاقے خانقین میں کیا گیا ہے جہاں ایک ترکمن شیعہ خاندان کے گھر کے نزدیک بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ،اس کی بیوی اور تین بچے مارے گئے ہیں۔

دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں بم دھماکوں میں نو افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوگئے ہیں۔شمالی صوبہ کرکوک میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے دو افراد کو ہلاک کردیا ۔دیالا کے پڑوس میں واقع صوبہ صلاح الدین میں پے درپے تین بم دھماکے ہوئے ہیں اور ان میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ تاہم اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجو اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے کارکنان اہل تشیع کی قیادت میں حکومت کے اہداف، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں 6500 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے جبکہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے اپنی حکومت کے خلاف اس محدود پیمانے کی مسلح جدوجہد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری سے مدد طلب کی ہے۔

لیکن سفارت کاروں ،تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت عوام سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے جس سے اس حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب میں اضافہ ہورہا ہے۔