.

2014ء کے اختتام تک شامی مہاجرین کی تعداد دُگنا ہو جائے گی

شامی مہاجرین کو امدادی سامان دینے کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت انسانی امداد کے ادارے نے پیشین گوئی کی ہے کہ آیندہ سال کے اختتام تک مشرق وسطیٰ کے ممالک میں شامی مہاجرین کی تعداد دُگنا ہو جائے گی۔

اس ادارے نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار شام میں دربدر ہونے والے مہاجرین کی تعداد ترانوے لاکھ تک پہنچ ہوجائے گی اور ان لوگوں کوگزربسر کے لیے بیرونی امداد کی ضرورت ہوگی۔

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوجوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ چھبیس ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو کر پڑوسی ممالک میں اور اندرون ملک مہاجر کیمپوں میں انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں 65 لاکھ افراد دربدر ہوئے ہیں۔ان میں 23 لاکھ پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں اور42 لاکھ اندرون ملک ہی عارضی خیموں یا دوسری پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

اب عالمی ادارے کے تحت انسانی امدادی ایجنسی کے تازہ تخمینے کے مطابق 2014ء کے اختتام تک اکتالیس لاکھ شامی لبنان ،اردن ،ترکی ،عراق اور مصر میں رہ رہے ہوں گے۔

ان میں سے چھے لاکھ ساٹھ ہزار شامی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہوں گے اور چونتیس لاکھ چالیس ہزار نجی اقامت گاہوں میں اقامت گزین ہوں گے۔اقوام متحدہ نے شامی مہاجرین کی اس ممکنہ کثیر تعداد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عالمی سطح پر امداد کی اپیل کی ہے۔

شام کے یہ پڑوسی ممالک اپنے ہاں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد تیس لاکھ کے لگ بھگ بتا رہے ہیں جبکہ ایک سال قبل خطے میں رجسٹرڈ شامی مہاجرین کی تعداد پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار تھی۔اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کو اور دوسری بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو دنیا بھر میں سترہ بحران زدہ علاقوں کے قریباً پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد کو 2014ء میں امداد پہنچانے کے لیے بارہ ارب نوے کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے۔

اس رقم میں نصف صرف شامی مہاجرین کے لیے درکار ہے۔شام کے اندر دربدر لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے دو ارب ستائیس کروڑ ڈالرز اور خطے کے دوسرے ممالک میں مقیم شامی مہاجرین کے لیے چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔