.

سابق ایرانی صدر کو منڈیلا کے جنازے میں شرکت سے روک دیا گیا

قدامت پسند مقتدرایرانی حلقے خاتمی کو"فساد کی جڑ" سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے سابق صدر محمد خاتمی کو جنوبی افریقا کے سابق صدر آنجہانی نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بیرون ملک سفرسے روک دیا۔

ایرانی مجلس شوریٰ[پارلیمنٹ] کے اسپیکرعلی لاریجانی کی مقرب خیال کیے جانے والے نیوز ویب پورٹل"انتخاب" نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر آنجہانی نیلسن منڈیلا کے جنازے میں شرکت کے لیے جنوبی افریقا جانا چاہتے تھے مگرتہران حکام نے انہیں سفرسے روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق صدرمحمد خاتمی نے جنوبی افریقا کے دورے کے لیے وزارت خارجہ کے ذریعے ویزے کی درخواست دی تھی۔ ان کے بیرون ملک سفری کاغذات مکمل ہوچکے تھے مگر بعد میں انہیں بتایا گیا کہ وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ محمد خاتمی پر سنہ 2009ء کے بعد سے اب تک جنوبی افریقا کے سفر پر پابندی عائد ہے۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ موجودہ صدر ڈاکٹرحسن روحانی بھی ڈاکٹر محمد خاتمی کے دورہ جنوبی افریقا کے حامی تھے۔ دفتر خارجہ نے دورے کے تمام انتظامات بھی مکمل کر لیے تھے تاہم بعد میں اعلیٰ حکام کی ہدایت پرانہیں بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا وہ "اعلیٰ اتھارٹی" کون ہے، جس کے حکم کے سامنے صدر بھی بے بس ہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد اوران کے مقربین محمد خاتمی کے دورہ جنوبی افریقا کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔ انہوں نے مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ذریعے محمد خاتمی کو بیرون ملک سفرسے رکوا دیا۔ تاہم خود احمدی نژاد نے اپنی جانب منسوب اس طرح کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ ایران کی پرتشدد اور قدامت پسند اشرافیہ اعتدال پسند سیاسی رہ نماؤں کو ملک میں فساد کی جڑ قرار دیتی ہے۔ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد جب اصلاح پسند اپوزیشن نے حکومت کےخلاف ملین مارچ کا اعلان کیا تو مقتدر شدت پسندوں نے محمد خاتمی کو بھی"فساد کی جڑ" قرار دیا تھا۔