.

مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانے کے قریب دھماکا

بارود سے بھری گاڑی میں دھماکے سے ہلاکتوں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقی لبنان کے شہر بعلبک میں منگل کو علی الصباح حزب اللہ کے بلدیہ صبوبا میں واقع دفتر کے باہر دھماکے میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہو گئے۔

بیروت سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ دھماکا شام اور لبنان کی سرحد پر واقع عرسال کے علاقے میں ہوا۔ دھماکا کے وقت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا ہدف عام شہری نہیں تھے۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیم کے ارکان نے شک گذرنے پر ایک مشکوک گاڑی کا پیچھا کیا، تاہم اس سے پہلے کہ وہ گاڑی تک پہنچتے اس میں موجود ڈرائیور نے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں اداے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ دھماکا بارود سے بھری گاڑی میں کیا گیا۔ اس کا ہدف مشرقی لبنان کے شہر بعلبک کی بلدیہ صبوبا میں واقع حزب اللہ کا مقامی دفتر تھا۔ دھماکا مقامی وقت کے مطابق علی الصباح چار بجے ہوا، جس میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکا بارود سے بھری گاڑی میں کیا گیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور حزب اللہ کے کارکنوں نے علاقے کا گھیراو کر لیا۔

بیروت اور لبنان میں حزب اللہ کا گڑھ سمجھنے جانے والے متعدد دیگر علاقوں میں گذشتہ کئی مہینوں کے دوران ہونے والے بم دھماکے کئے جا چکے ہیں۔ ان میں آخری ہولناک دھماکا بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے باہر کیا گیا جس میں کم سے کم 23 افراد لقمہ اجل بنے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان میں ہونے والے ان دھماکوں کا براہ راست تعلق شام میں جاری خانہ جنگی سے ہے کیونکہ وہاں پرحزب اللہ کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

معروف صحافی اور کالم نگار طونی فرنسسیس نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے دفاتر کے قریب دھماکا غیر معمولی بات اس لئے نہیں رہا کیونکہ یہ تنظیم جس شد و مد سے شامی لڑائی میں اپنا حصہ ڈالے ہوئے ہے، اس کا منطقی نتیجہ شامی جنگ کی لبنانی سرزمین پر منتقلی کی صورت نکلنا ہے اور آئے روز کے دھماکے اسی جانب پیش قدمی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے متعلق ابتدائی معلومات نامکمل ہیں کیونکہ خود حزب اللہ کا ترجمان سیٹلائیٹ ٹی وی 'المنار' بھی دھماکے میں ہونے والے جانی اور مادی نقصان کے بارے میں خاموش ہے۔

طونی فرنسیس نے کہا کہ اس دھماکے کا محرک بھی شام کی داخلی صورتحال ہو سکتی ہے کیونکہ جس حساس علاقے میں یہ کارروائی کی گئی ہے وہ لبنا اور شام کی سرحد پر واقع عرسال کے علاقے کے انتہائی قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں زیادہ بدامنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور یقینا اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔