.

مصر: مظاہرے کے دوران ٹیکسی چلانے کی کوشش پر ڈرائیور ہلاک

اخوان المسلمون کے حامیوں پر ڈرائیور کو تشدد سے ہلاک کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے حامیوں نے مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کو تشدد سے ہلاک کر دیا ہے۔

مصری روزنامے یوم 7 کی رپورٹ کے مطابق پینتیس سالہ ڈرائیور محمد بدر نے منصورہ شہر میں اخوان المسلمون کے مظاہرین کے درمیان میں سے اپنی ٹیکسی نکالنے کی کوشش کی تھی اور اس نے ہارن بجایا جس پر اس کی مظاہرین کے ساتھ توتکار شروع ہوگئی۔اس دوران اخوان کے بعض حامیوں نے ٹیکسی کے اندر بوتل بم پھینک دیا جس سے کار کو آگ لگ گئی۔

مصر کے علاقے الدقھلیہ کی سکیورٹی فورسز نے منصورہ شہر میں پیش آئے اس واقعے کے الزام میں بعد میں بارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ایک سکیورٹی افسر جنرل ثمر المحیی کا کہنا ہے کہ بدر جلتی ہوئی کار سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن مظاہرین نے اس کو پکڑ کر چاقو گھونپ دیا جس سے وہ مارا گیا۔

جنرل محیی نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مقتول ڈرائیور نے خواتین پر اپنی کار چڑھا دی تھی۔انھوں نے بتایا کہ بعض مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پولیس دوسروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق مقتول کی موت گردن میں پانچ سینٹی میٹر گہرا زخم لگنے کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔بدر کے والد جمال الدین نے العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اخوان المسلمون کی مذمت کی ہے اور کہا ہےکہ وہ مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔انھوں نے اخوان کے ارکان کو گمراہ قرار دیا۔

جمال الدین کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے پر شاید اس لیے حملہ کیا گیا تھا کیونکہ اس کی کار میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی تصویر لگی ہوئی تھی۔