.

2013 کے دوران عراق میں 267 صحافی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے

موصل صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اس کے اتحادیوں نے مصلوب صدر صدام حسین کوعراق اور پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بغداد پر چڑھائی کی، لیکن آج کا عراق صدام دور سے کہیں زیادہ پرخطر اورعدم استحکام سے دوچار ہوچکا ہے۔ نوری المالکی کی کٹھ پتلی حکومت دہشت گردی خاتمے میں مکمل طورپر ناکام ثابت ہوئی ہے، حالت یہ ہے کہ صرف سال کے دوران عراق میں ہزاروں دیگرشہریوں میں 267 صحافی بھی قتل کردیے گئے ہیں۔

صحافتی حقوق کے لیے سرگرم اداروں کی رپورٹس کے مطابق عراق کے تمام شہرصحافیوں کے لیے پرخطرمحاذ ہیں، جہاں دہشت گرد چن چن کر صحافیوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں، وہاں موصل جیسا شہرصحافیوں کی "قتل گاہ" ثابت ہوا ہے۔

رواں سال میں صرف بیس دنوں میں پانچ صحافیوں کو ان کی پیشہ وارانہ خدمات کی پاداش میں جان سے مار ڈالا گیا۔ ان میں انیس سالہ نورس النعیمی بھی شامل ہیں۔ نورس ایک مقامی نجی ٹیلی ویژن چینل کی نامہ نگار تھی۔ اسے15 جنوری 2013ء کوموصل میں اس کے گھرکے باہر قاتلانہ حملے میں مار ڈالا گیا۔ سنہ 2003ء کے بعد سے موصل میں اب تک 50 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔

حکومت اور سکیورٹی ادارے قصور وار

عراق میں صحافیوں اورابلاغیات سے تعلق رکھنے والے افراد کو چن چن کر نشانہ بنانے پرصحافتی حلقوں میں سخت رد عمل پایا جا رہا ہے۔ عراق جرنلسٹ یونین کے عہدیدارموید اللامی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کے قتل عام پرحکومت کی مجرمانہ خاموشی پرکڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ اہل صحافت ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی حکومت کو سرے سے کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ ملک میں جنگل کا قانون ہے۔ ذرائع ابلاغ شہریوں جمہوریت اوراعتدال پسندانہ شعور پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے لیکن مقتدر اشرافیہ کی جانب سے صحافیوں کے حقوق بارے دانستہ لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عراقی صحافی رہ نما موید اللامی کا کہنا تھا کہ اگرملک میں کوئی سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی میں مارا جاتا ہے توواقعے کی چھان کے لیے فوری کارروائی شروع کی جاتی ہے لیکن صحافیوں کے بہیمانہ قتل عام پر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں سے بھی صحافیوں اورمشکل محاذوں پرابلاغی جہاد کرنے والوں کوتحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

درایں اثناء آزادی صحافت آبزرویٹری کی جانب سے موصل اور دوسرے شہروں میں صحافیوں کے مبینہ قتل عام کی تمام ذمہ داری سیکیورٹی اداروں پرعائد کی۔ آبزرویٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو سال سے صحافیوں کو چن چن کرقتل کیا جارہا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو پا رہا ہے کہ اس جارحیت کے پس پردہ کن عناصر کا ہاتھ ہے، لیکن سیکیورٹی حکام نے آج تک ایسے کسی واقعے کی تحقیقات یا صحافیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ بلکہ الٹا صحافیوں کےخلاف کریک ڈاؤن اور انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جب سیکیورٹی ادارے خود ملک میں پیش آنے والے حالات کی آزادانہ کوریج سے روکنے کی کوشش کریں گے تو صحافیوں کا ان پراعتماد اٹھ جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 267 صحافی قتل اور 65 کو اغواء کیا گیا، ان میں کچھ بازیاب ہوئے، بعض کی تشدد زدہ لاشیں ملیں اور 14 تاحال لاپتہ ہیں.