سعودی عرب خلیج میں سکیورٹی کے لیے تنہا اقدام کرے گا

شام اور ایران کے بارے میں مغرب کی پالیسیاں خطرناک جوا ہیں: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے میں تنہا سکیورٹی کا بندوبست کرنے کے لیے تیار ہے،انھوں نے ایران اور شام کے بارے میں مغرب کی پالیسیوں کو خطرناک جوا قراردیا ہے۔

برطانیہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ محمد بن نواف بن عبدالعزیز نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ''ایران اور شام کے بارے میں مغرب کی بہت سے پالیسوں سے مشرق وسطیٰ کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔یہ ایک بہت ہی خطرناک جوا ہے اور ہم اس پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے اور نہ خاموش تماشائی بنے رہیں گے''۔

انھوں نے ایران کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے بعض مغربی شراکت داروں نے شامی اور ایرانی حکومتوں کو چیلنج کرنے اور ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے ہی انکار کردیا ہے''۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''مغرب نے ایک رجیم کو اقتدار پر برقرار رہنے اور دوسرے کو یورینیم افزودگی کے پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے اور اس کے خطرناک مضمرات ہوسکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ سعودی قیادت نے امریکا کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ایران کے ساتھ چھے بڑی طاقتوں کے حالیہ سمجھوتے پر بھی سعودی عرب نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

شہزادہ محمد کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت سے مغرب کی دمشق اور تہران کے خلاف کارروائی معدوم ہوتی جارہی ہے۔لیکن ایسی حکومتوں کے ساتھ امن کس قیمت پر قائم کیا جارہا ہے؟

ان کے بہ قول سعودی مملکت کی سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے عالمی ذمے داریاں ہیں اور ہم اپنے مغربی شراکت داروں کی حمایت یا اس کے بغیر بھی اپنی ان ذمے داریوں کو پورا کریں گے۔

سعودی سفیر نے امریکی صدر براک اوباما کے ''سرخ لکیروں'' سے متعلق مشہور زمانہ بیانات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے شراکت دار ہمارے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کو تیار ہوگئے''۔صدر اوباما نے ''سرخ لکیر''(ریڈ لائنز) کی اصطلاح شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق استعمال کی تھی۔

شامی فوج نے اگست میں دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں تباہ کن کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے لیکن اس کے بعد بھی امریکا نے صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے کوئی فوجی اقدام نہیں کیا تھا اور ان کی حملے کی دھمکیوں کے بعد روس کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے سمجھوتا طے پاگیا تھا۔

شہزادہ محمد نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے خطرے کو تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اعتدال پسندی کے علمبرداروں کی حمایت کی جائے۔

خطے کی صورت حال کے حوالے سے ان کے اس تبصرے سے قبل بااثر سعودی شہزادے اور سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر ابتدائی سمجھوتے سے قبل مذاکرات کے عمل میں سعودی عرب کو بالکل بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انھوں نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ عارضی معاہدہ اس کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے ناکافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ''ہمارے لیے یہ اہم تھا کہ ہم بھی اس مذاکراتی میز پر موجود ہوتے لیکن ہم غیر حاضر تھے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں