.

شام میں ''غیر مجاز سرگرمیوں'' پر برطانوی ڈاکٹر موت سے ہم کنار

متوفی شامی حکام کے زیر حراست پراسرار حالات میں پھندے سے جھول گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حکام کے زیر حراست ایک برطانوی ڈاکٹر پراسرار حالات میں مارا گیا ہے۔اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ اس کو غیرمجاز سرگرمیوں کے الزام میں قتل کیا گیا ہے جبکہ شامی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دوران حراست خود پھندے سے جھول گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے متوفی کی میڈیکل رپورٹ کے حوال سے بتایا ہے کہ ''برطانوی شہری عباس خان شامی علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا تھا اور اس نے غیر مجاز سرگرمیاں انجام دیں،اس کی موت پھندے کے نتیجے میں گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے''۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ''پھندے سے جھولنا ایک انفرادی فعل ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ فعل اس شخص نے خود اپنی جان لینے کے لیے انجام دیا ہے''۔متوفی عباس خان کی عمر بتیس سال تھی اور وہ آرتھو پیڈک سرجن تھا۔اس کے ٹیسٹوں کی رپورٹس کے مطابق جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں تھے اور نہ اس کی جانب سے مزاحمت کے کوئی آثار ملے ہیں۔

برطانیہ کے نائب وزیر خارجہ ہیو مائیکل رابرٹسن نے دمشق رجیم کو عباس خاں کی موت کا ذمے دار قراردیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ شامی حکام نے دراصل ایک برطانوی شہری کو قتل کیا ہے اور اس کا کوئِی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا حالانکہ یہ برطانوی شہری ان کے ملک میں خانہ جنگی میں زخمی ہونے والے افراد کی مدد کررہا تھا۔

شامی وزارت خارجہ نے ڈاکٹر عباس خان کی موت سے متعلق رپورٹ دمشق میں جمہوریہ چیک کے سفارت خانے کے حوالے کردی ہے جو اس وقت برطانوی مفادات کو بھی دیکھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کے پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مارچ 2012ء میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا تھا۔

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شام اس برطانوی شہری کو برطانوی رکن پارلیمان جارج گیلوے اور ان کی ماں کے حوالے کرنے والا تھا۔جارج گیلوے نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے عباس خان کو معاف کرنے کے لیے کہا تھا''۔

انھوں نے مزید کہا کہ شام نے کرسمس اور نئے سال کے موقع پر اس برطانوی شہری کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ شامی عوام کی جانب سے برطانوی عوام کے لیے ایک تحفہ ہوتا۔تاہم فیصل مقداد نے یہ نہیں بتایا کہ متوفی کے جسد خاکی کو کب واپس بھیجا جائے گا۔