.

شام میں لوگوں کوغائب کرنے کے لیے قائم خفیہ جیلوں کا انکشاف

شامی فورسز اور القاعدہ گروپ پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالف شہریوں کو غائب کرنے کے لیے قائم خفیہ جیلوں کا انکشاف کیا ہے جہاں زیرحراست افراد کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔

ان دونوں اداروں نے اپنی رپورٹس میں صدر بشارالاسد کی فورسز اور القاعدہ سے وابستہ ایک اسلامی جنگجو گروپ کی جانب سے شہریوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی تفصیل بیان کی ہے اور ان پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی جنگجوؤں نے شام کے شمال میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خفیہ جلیں قائم کررکھی ہیں جہاں وہ سمری ٹرائل کے بعد لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں،کوڑے لگا رہے ہیں اور فائرنگ سے قتل کررہے ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق اور شام (آئی ایس آئی ایل) نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سات خفیہ جیلیں قائم کررکھی ہیں۔ وہاں چوری ،سگریٹ نوشی اور زنا جیسے جرائم میں ملوث ملزموں کو قید رکھا جاتا ہے۔

ایمنسٹی کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ ''آئی ایس آئی ایل نے آٹھ سال کی عمر تک کے بچوں کو اغوا کے بعد قید کررکھا ہے،انھیں مردوں کے ساتھ اسی ظالمانہ اور غیر انسانی ماحول میں رکھا جارہا ہے''۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں صدر بشارالاسد کی وفادر فورسز کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا ہے۔شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے پینل نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ''ملک میں لوگوں کو بڑے منظم انداز میں غائب کردیا جاتا ہے اور ان کا نام ونشان تک مٹا دیا جاتا ہے''۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز اور حکومت نواز ملیشیا نے گھروں ،چیک پوائنٹس اور اسپتالوں سے لوگوں کو گرفتار کرکے غائب کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔پھر وہ اس بات کا سرے سے انکار ہی کردیتے ہیں کہ ان لوگوں کا کوئی وجود بھی تھا۔ان کارروائیوں کا نشانہ بننے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں شام کے وسطی شہر حمص سے تعلق رکھنے والی ایک ساٹھ سالہ خاتون کا کیس بیان کیا ہے۔اس کو محض اپنے لاپتا بیٹے کے بارے میں دریافت کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔سکیورٹی ایجنٹوں نے پرامن مظاہرے میں حصہ لینے والے ایک شخص کے بھائی کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔

شامی فضائیہ کے ایک منحرف فوجی نے بتایا تھا کہ انھیں حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں کوئی بھی معلومات ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ زیر حراست افراد کے عزیزواقارب سے کوئی بات نہ کی جائے۔

چارماہرین کی اس رپورٹ میں ایمنسٹی کی رپورٹ کی طرح ریاست اسلامی عراق وشام پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے لوگوں کو پکڑنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور یہ گروپ بھی خفیہ جیلیں چلا رہا ہے۔

اس جنگجو گروپ پر انسانی حقوق کے کارکنان ،صحافیوں ،مذہبی لیڈروں اور صدر بشارالاسد کے حامیوں کو اغوا کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے لیکن ایسے افراد کو بالعموم تاوان کے بدلے میں یا قیدیوں کے ساتھ تبادلے میں رہا کردیا جاتا ہے اور ان کا اتا پتا معلوم ہوتا ہے لیکن اب اس گروپ نے بھی شامی فورسز کی طرح اپنے مخالفین یا مزعومہ ''ملزموں''کو غائب کرنا شروع کردیا ہے۔