مصری عہدے دار دستوری پوسٹر میں اغلاط کے بعد مستعفی

پوسٹر میں انٹرنیٹ سے اٹھا کر کاکیشیا کے افراد کی تصاویر لگا دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے سرکاری میڈیا ادارے کے سربراہ نے نئے مجوزہ دستور کی تشہیر کے لیے تیارکردہ پوسٹر میں غیر مصریوں کی تصاویر اور عربی میں لفظ ''مصریون'' کے ہجے غلط ہونے کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

اسٹیٹ انفارمیشن سروس کے سربراہ امجد عبدالغفار نے تشہیری پوسٹر میں اغلاط پر معذرت بھی کی ہے۔''تمام مصریوں کے لیے دستور'' کے عنوان سے اس پوسٹر میں کاکیشیا کے خطے کے نقوش والے افراد کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق امجد عبدالغفار نے بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

حال ہی میں مرتب کردہ مصر کے نئے دستور کی تشہیر کے لیے ایک بہت بڑا پوسٹر بنایا گیا ہے جس میں ایک ڈاکٹر،ایک خاتون ،ایک کسان اور ایک فوجی کی تصویر ہے۔اس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ نیا دستور مصری معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرتا ہے۔

لیکن اس میں تین تصاویر غیر مصریوں کی ہیں۔وہ بظاہر کاکیشیا کے خطے کے افراد کی معلوم ہوتی ہیں اور دوسری ویب سائٹس پر موجودان تصاویر کا انتخاب گوگل سرچ کے ذریعے کیا گیا ہے۔پوسٹر بینر میں لفظ مصرین کے عربی زبان میں ہجے بھی درست نہیں ہیں۔اس کی نشاندہی ایک صحافی نے اسی ہفتے ایک نیوزکانفرنس کے دوران کی تھی۔

مصر کے اس مجوزہ دستور پر جنوری میں ریفرینڈم ہوگا۔اس سے پہلے اس کی خوبیاں اجاگر کرنے کے لیے اس کی تشہیر کی جارہی ہے۔مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے اس ریفرینڈم کو ملک میں جمہوری انتقال اقتدار کی جانب ایک اہم قدم قراردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں