.

پسرانِ حسنی مبارک ''زمین ہتھیانے'' کے مقدمے میں بری

عدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم احمد شفیق کی مصر واپسی کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم احمد شفیق اور سابق صدر حسنی مبارک کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک کو زمین ہتھیانے کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔

ان تینوں پر ساحلی شہر اسماعیلیہ کی بلدیہ میں واقع مصری پائلٹوں کی تنظیم کی ملکیتی چالیس ہزار مربع میٹر اراضی ہتھیانے کے لیے معاونت کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن قاہرہ کی عدالت نے جمعرات کو ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

دوسری جانب سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے چلائی گئی عوامی احتجاجی تحریک میں پیش پیش کارکنان نے عدالت کے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے تمام مصریوں کے لیے مایوس کن قرار دیا ہے۔

''عوامی دباؤ'' نامی گروپ کی بانی سربراہ نسرین المصری نے عدالتی فیصلے کو رجعت قہقری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے ایک مرتبہ پھر مصر میں تیس سالہ سابقہ دور بدعنوانی کو لوٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مصری عہدے داروں میں کرپشن عام ہے اور یہ ظاہر وباہر ہے۔انھوں نے حکمرانوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن سے ایک نیا انقلاب برپا ہوگا جس سے تمام مصر تباہ ہوجائے گا۔اس لیےآپ کو ملک کو چلانے کے لیے شفاف ہونے کی ضرورت ہے۔

اب اس عدالتی فیصلے کے بعد شاید سابق وزیراعظم اور شکست خوردہ صدارتی امیدوار احمد شفیق مصر لوٹ آئیں اور ان کی میدان سیاست میں بھی واپسی ہوسکتی ہے۔وہ گذشتہ سال جون میں ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابلے میں صدارتی انتخاب کے حتمی مرحلے میں شکست کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے۔کچھ عرصہ قبل ان کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔