.

مصر : مظاہروں کے دوران ہلاکتیں، تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم

کمیٹی مرسی دور کے بعد کے بارے میں رپورٹ چھ ماہ میں دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اب تک ملک میں ہونے والی قتل و غارتگری کے ذمہ داراوں کا تعین کرنے کیلیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی ایک مصری جج فواد ریاض کی زیر سربراہی قائم کی گئی ہے۔

پانچ رکنی کمیٹی 30 جون کے بعد کے واقعات کے بارے میں جان کاری کرے گی۔ اس دوران ہلاکتوں کے سنگین اور بہیمانہ واقعات 14 اگست 2013 کو پیش آئَے تھے۔ جب سکیورٹی فورسز قاہرہ میں مرسی کی بحالی کیلیے دھرنا دینے والے ہزاروں مظاہرین پر چڑھ دوڑی تھیں اور ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بہت سی عالمی اور ملکی تنظیمیں تب سے مطالبہ کرتی آ رہی تھیں کہ ہلاکتوں کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس عرصے میں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں مسیحی گرجا گھروں، سرکاری املاک اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر جلائے جانے کے واقعات بھی پیش آئے۔

صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مصر مسلسل احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ سینائی میں عسکریت پسندوں کی کا رروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں مصر سیاسی اعتبار سے بھی غیر معمولی پولرائیزیشن کا شکار ہے۔

عبوری صدر عدلی منصور نے اس سلسلے میں جاری کردہ اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ کمیٹی غیر جانبدارانہ انداز میں 30 جون سے ہونے والے واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

واضح رہے پچھلے چھ ماہ کے دوران فوج کی حمایت سے قائم حکومت نے مرسی کے حامیوں کا صفایا کرنے کیلیے ایک کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ ہزاروں اسلام پسندوں کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔ جیل جانے والوں میں اخوان المسلمون کی اعلی ترین قیادت بھی شامل ہے جن کیخلاف قتل جیسے سنگین ا لزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ حکومت احتساب کے پہلے قدم کے طور پر ایک موثر کمیٹی قائم کرے جو حقائق سامنے لائے اور غیر قانونی ہلاکتوں کی ذمہ دار '' چین آف کمنڈ'' کو بے نقاب کرے۔''

اب یہ کمیٹی امکانی طور پر انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے گی۔ ان چھ ماہ کے دوران اسے ملک کے اندر دورو نزدیک سے حقائق جمع کرے گی اور متاثرین سے بھی ملاقاتیں کرے گی۔