.

عراق:دو ٹی وی اسٹیشنوں پر خودکشن بم حملے ،پانچ صحافی ہلاک

دو بمباروں نے ٹی وی اسٹیشن کی عمارت میں خود کو اڑا دیا،دو فائرنگ سے مارے گئَے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر تکریت میں مسلح افراد نے دو ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کی عمارت پر بم حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں پانچ صحافی ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق تکریت میں صلاح الدین ٹیلی ویژن اور عراقیہ ٹی وی کی عمارت پر چار بمباروں نے حملہ کیا تھا۔ان میں سے دو نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا اور دو کو سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کردیا ہے۔ان دونوں ٹی وی اسٹیشنوں کے دفاتر ایک ہی عمارت میں واقع ہیں۔

خودکش بم دھماکوں میں صلاح الدین ٹیلی ویژن کے چیف نیوز ایڈیٹر ،ایک کاپی ایڈیٹر ،ایک پروڈیوسر ،ایک پیش کار اورآرکائیو مینجر مارا گیا ہے۔العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق بم دھماکوں کے بعد عمارت سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہورہا تھا۔بعض صحافی عمارت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن بعض ابھی تک عمارت میں پھنسے ہوئے تھے۔

صلاح الدین ٹی وی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ ''میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا ہوں ،عمارت کی تیسری اور چوتھی منزل کو آگ لگی ہوئی تھی۔دوخواتین سمیت بعض ساتھی عمارت میں موجود ہیں۔میں انھیں فون کرنے کی کوشش کررہاہوں لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔

اسی عمارت میں واقع عراقیہ ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے بھی ایسی ہی کہانی بیان کی ہے اور اس کے بھی بعض ساتھی بم دھماکوں کے بعد عمارت کے اندر ہی پھنس کررہ گئے تھے۔

عراق میں ماضی میں میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے قتل پر وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔گذشتہ تین ماہ کے دوران مسلح افراد کے حملوں میں نو صحافی مارے جاچکے ہیں۔گذشتہ ہفتے موصل میں مسلح افراد نے ایک ٹیلی ویژن چینل کی پیش کار نورس النعیمی کو ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی تھی۔وہ موصل میں اکتوبر کے بعد قتل ہونے والی پانچویں صحافیہ تھیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔تاہم اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجو اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے کارکنان اہل تشیع کی قیادت میں حکومت کے اہداف ، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں 6650 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے جبکہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے اپنی حکومت کے خلاف اس محدود پیمانے کی مسلح جدوجہد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری سے مدد طلب کی ہے۔

لیکن سفارت کاروں ،تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت عوام سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے جس سے اس حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب میں اضافہ ہورہا ہے۔