.

جوانسال خاتون صحافی ہلاک، والدہ نے قاتل کو معاف کر دیا

''بیٹی کو دلہن بنا کر جنت بھیج دیا'' عراق تین ماہ 12 صحافی قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی ٹیلی ویژن سے وابستہ خاتون صحافی کی ہلاکت پر بہادر والدہ نے اپنی بیٹی کے قاتل کو یہ کہہ کر معاف کر دیا '' میں نے اپنی بیٹی کو جنت بھیج دیا ہے۔''

موصل کی رہائشی نوارس النعامی نامی خاتون صحافی کو اس کے گھر کے قریب15 دسمبر کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتولہ کی والدہ نے مبینہ قاتل کی گرفتاری کی خبر ٹیلی کاسٹ ہونے پر قاتل سے ملاقات کی اور اس کا ماتھا چوما اور کہا میں نے اپنی بیٹی جنت کی دلہن کے طور پر روانہ کر دیا ہے اس لیے تمہیں معاف کرتی ہوں۔''

ٹی وی کی رپورٹ میں مقتولہ کی والدہ کو مقتولہ کے بیڈروم میں دکھایا گیا ہے، جہاں وہ ایک خونی حقوق دھبوں والی کتاب '' انسانی حقوق ، ایک تعارف ''نامی کو دیکھ رہہی ہیں۔ واضح رہے نوارس النعامی جب قتل کی گئیں تو یہ کتاب ان کے ہاتھ میں تھیں۔

عراقی فوج کے میجر جنرل علی الفرائیجی کا کہنا ہے کہ '' خاتون صحافی کا قاتل ایک ایسے گروپ کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے جو سکیورٹی فورسز پر حملے کی تیاری میں تھا۔'' میجر جنرل کے بقول مبینہ قاتل کو مقتولہ صحافی کے خاندان اور واقعے کے عینی شاہدوں نے شناخت کیا تھا۔

واضح رہے 19 سالہ مقتولہ صحافی سنی اکثریت کے شہر موصل میں حالیہ تین ماہ کے دوران ہلاک ہونے والی پانچویں صحافی ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر عراق کے دوسرے شہروں میں تین ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران 12 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

صحافیوں کیلیے بڑھے ہوئے خطرات کے باعث عراق سخت تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے کہ عراق میں میڈیا کی آزادی کی حالت بھی دگرگوں ہے