.

اسرائیل کی غزہ میں حماس کی جگہوں پر بمباری،دو فلسطینی شہید

غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پرنامعلوم شخص کی فائرنگ سے ایک اسرائیلی کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے فائرنگ کے واقعے میں ایک صہیونی کی ہلاکت کے بعد غزہ کی پٹی پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایک تین سالہ بچی سمیت دو فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی معان نے غزہ میں حماس کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے نے المغازی مہاجر کیمپ پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں تین سالہ بچہ حالہ ابو شیخہ شہید اور اس کی والدہ اور بھائی زخمی ہوگئے۔

معان نے مزید بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور شمال میں بھی حماس کی جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر یہ بمباری ایک اسرائیلی مزدور کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد کی ہے۔

یہ مزدور غزہ کی سرحد کے ساتھ خاردار باڑھ پر کام کررہا تھا کہ اس دوران کسی نامعلوم شخص کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔اس کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس مزدور کی ہلاکت پر حسب معمول سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔اس بیان کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں بمباری کردی۔گذشتہ چند ماہ کے بعد اسرائیل کی غزہ کی پٹی میں یہ ایک بڑی جارحانہ کارروائی ہے۔

اسرائیل اور غزہ کے درمیان نومبر 2012ء کے بعد سے جنگ بندی جاری ہے لیکن اس دوران بھی غزہ سے اسرائیل کے جنوبی علاقے کی جانب راکٹ فائر کیے جاتے رہے ہیں اور صہیونی فوج حماس اور دوسری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو فضائی حملوں میں نشانہ بناتی رہی ہے۔اس نے اگلے روز ہی غزہ سے اسرائیلی علاقے کی جانب بنائی گئی دو مبینہ سرنگوں کو بمباری کرکے تباہ کردیا ہے۔