.

بین کی مون کا ایران کو جنیوا مذاکرات میں مدعو کرنے پر اصرار

شامی حزب اختلاف کی حلب پر اسدی فوج کی بمباری کے بعد مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے ایران کو ایک اہم علاقائی قوت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو آیندہ ماہ ہونے والے جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی جانا چاہیے۔

بین کی مون نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ''جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں،ایران کو خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر شام میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اورایران شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے''۔

انھوں نے بالاصرار کہا کہ ''ایران ایک اہم علاقائی قوت ہے۔منطقی ،عملی اور حقیقی طور پر اس کو مجوزہ اجلاس میں شرکت کرنا چاہیے''۔بین کی مون نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ 22 جنوری کو ہونے والی جنیوا کانفرنس کے لیے دسمبر کے اختتام سے قبل دعوت نامے جاری کردیں گے اور توقع ہے کہ تب تک ایران کی شرکت کا معاملہ طے کر لیا جائے گا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے جنیوا میں 20 دسمبر کو مجوزہ امن کانفرنس کے شرکاء کی ایک فہرست جاری کی تھی اور کہا تھا کہ امریکا ایران کی کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کررہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات مشکل ہوں گے لیکن ان کے بغیر خونریزی ہی ہوگی۔انھوں نے شامی تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کردیں،محاصرے ختم کریں اور انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دیں۔

ایس این سی کا انتباہ

درایں اثناء شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) نے ایک مرتبہ پھر ایران کی امن مذاکرات میں شرکت کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے شمالی شہر حلب پر بمباری جاری رکھی تو اتحاد جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔

ایران شامی صدر بشارالاسد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کررہا ہے جبکہ شامی قومی اتحاد ایران کو ماضی میں جارح قرار دے چکا ہے۔ایس این سی کے سیکرٹری جنرل بدر جاموس نے ایک بیان میں کہا کہ ''اگر اسد رجیم کے جنگی طیاروں کی حلب میں بمباری اور شامی عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کارروائی جاری رہتی ہے تو پھر اتحاد مذاکرات کے لیے جنیوا نہیں جائے گا''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحاد کے سربراہ احمد جربا برطانوی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انھیں اسدی فوج کے روزانہ فضائی حملوں کی تباہ کاریوں سے آگاہ کررہے ہیں۔

شامی فضائیہ نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران حلب میں باغی جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں پر متعدد مرتبہ بیرل بم برسائے ہیں جن میں بیسیوں عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں اور تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اختتام ہفتہ پر جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حلب میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران بیرل بموں کے حملوں میں بڑی تعداد میں شہری مارے گئے ہیں۔تنظیم نے کہا ہے کہ شامی فضائیہ یاتو مجرمانہ طور پر نااہل ہے کہ اس کو شہریوں کی ہلاکتوں کی کوئی پروا نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر شہری آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بیرل بم دھماکا خیز مواد کے سلنڈروں سے بھرے ہوتے ہیں یا ان میں تیل والے ڈرم ہوتے ہیں۔ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان سے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتوں کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فوج باغیوں کے خلاف لڑائی میں وقتاً فوقتاً فضائی قوت کا استعمال کرتی رہتی ہے اور وہ حلب میں خاص طور پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے بمباری کررہی ہے لیکن وہ شہر کے مشرقی اور وسطی حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اسدی فوج باغیوں کی عوامی حمایت کم کرنے کے لیے فضائی حملے کررہی ہے اور اس کا بڑا مقصد لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اسدی فوج سے برسرپیکار جنگجوؤں کی حمایت ترک کردیں۔