شامی فوج کی فضائی بمباری سے117 بچوں سمیت 400 ہلاک

مرنے والوں میں 34 خواتین اور 9 جہادیوں سمیت 39 باغی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی سرکاری افواج کے دس روز سے حلب میں جاری حملوں کے دوران ایک سو سترہ بچوں سمیت چار سو شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ سے متعلق ادارے '' آبزرویٹری برائے ہیومن'' کی بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بشارالاسد افواج نے فضائی بمباری اور دوسرے بھاری ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

پندرہ دسمبر سے 24 دسمبر کی شام تک کی ہلاکتوں کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک شدگان میں 34 خواتین اور 9 جہادیوں سمیت 39 باغی بھی شامل ہیں۔

لندن میں قائم ادارے کے مطابق اس حملے کے گیارہویں روز بدھ کو فضائی بمباری سے کارروائی کو مزید موثر بنانے کی کوشش کی گئی ۔ اس دوران حلب کے مشرقی حصے اور ساخور شہر میں بمباری کی گئی، تاہم بمباری سے بدھ کے روز ہونے والے جانی نقصان کی مصدقہ رپورٹس کا ابھی انتظار ہے۔

واضح رہے گزشتہ سال جولائی میں جب بشار رجیم نے حلب پر ایک بڑا حملہ کیا تھا اس وقت سے اب تک حلب عملا باغیوں اور بشار رجیم کے قبضے میں بٹا ہوا ہے۔ اس لیے بشار رجیم انسانی ہلاکتوں اور شہری تباہی کیلیے اندھا دھند حملے کر رہی ہے۔

امریکا نے بھی شہری آبادیوں پر فضائِی حملوں اور شہریوں کیخلاف سکڈ میزائیل استعمال کرنے کی مذمت کی ہے، جبکہ شام کی اپوزیشن جماعتوں نے دھمکی دی ہے کہ حلب پر بمباری جاری رہی تو اگلے ماہ جنوری میں جنیوا امن کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گی۔

شام کے سکیورٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ'' حلب بچاو '' آپریشن میں اس وقت تک کسی علاقے کو ٹارگیٹ نہیں کیا جاتا جب تک سوف یصد یہ یقین نہ ہو جائے کہ متعلقہ علاقے میں دہشت گرد موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں