مصر کے سابق وزیراعظم ہشام قندیل عدالتی حکم پر گرفتار

اسمگلروں کے ساتھ سوڈان فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی سکیورٹی فورسز نے سابق وزیراعظم ہشام قندیل کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں ایک سال کی قید بھگتنے کے لیے جیل منتقل کیا جارہا ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ہشام قندیل کو ان کے خلاف ایک عدالتی حکم کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔وہ پہاڑی علاقے میں اسمگلروں کے ساتھ سوڈان فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑے گئے ہیں۔

ہشام قندیل کو برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے جولائی 2012ء میں وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ان کے خلاف مصر کی ایک عدالت نے اپریل 2013ء میں ایک حکم جاری کیا تھا جس کے تحت انھیں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ستمبر میں ایک اعلیٰ عدالت نے اس حکم کو برقرار رکھا تھا۔

ان کے خلاف کیس کا تعلق 2011ء سے ہے۔تب سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت نے ایک ٹیکسٹائل کمپنی ایک سعودی سرمایہ کار کے ہاتھ فروخت کردی تھی لیکن عدالت نے اس ڈیل کو کالعدم قراردے دیا تھا۔ہشام قندیل بعد میں بطور وزیراعظم اس عدالتی حکم پر عمل درآمد کرانےمیں ناکام رہے تھے جس پر عدالت نے انھیں ایک سال قید کی سزا سنادی تھی۔

ہشام قندیل 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے خاموش زندگی گزار رہے تھے اور وہ اخوان المسلمون کے دوسرے لیڈروں کی طرح فوج کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں نمایاں نہیں ہوئے۔

البتہ وہ مرسی کے حامی اسلامی گروپوں کے اتحاد کی یورپی ثالث کاروں کے ساتھ مذاکرات میں نمائندگی کرتے رہے تھے۔یورپی مذاکرات کار اخوان المسلمون اور مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کوشاں تھے لیکن اگست میں مصری فورسز کی اخوان المسلمون کے حامیوں کے خلاف خونریز کارروائیوں کے بعد یہ امن کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔مصری فورسز کی قاہرہ کی شاہراہوں پر ان کارروائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور ہزاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ان میں اخوان کی کم وبیش تمام اعلیٰ قیادت شامل ہے۔

مصرکی عبوری حکومت نے منگل کو اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد گروپ قراردے دیا ہے۔یہ فیصلہ منصورہ شہر میں پولیس کی ایک عمارت میں تباہ کن بم دھماکے کے بعد کیا گیا ہے۔اس حملے میں چودہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

اخوان المسلمون اور فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور سابق صدر حسنی مبارک کے بدنام زمانہ سکیورٹی رجیم پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ایک مرتبہ پھر حسنی مبارک دور کے سکیورٹی عہدے دار فعال ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 2011ء میں اسکندریہ میں ایک عیسائی قبطی چرچ میں بم دھماکے کا الزام حسنی مبارک کے سابق وزیرداخلہ حبیب ابراہیم العدلی پر عاید کیا گیا تھا اور مختلف رپورٹس میں انہی وزیرصاحب کو اس بم دھماکے میں ماخوذ قراردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں