.

اسدی فوج کی شامی شہروں پر 5000 بیرل بموں سے بارش

بیرل بم حملوں سے 20 ہزار ہلاکتیں ہوئیں: نیشل کونسل صحت کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی نیشنل کونسل کی صحت کمیٹی نے دعوی کیا ہے کہ بشار الاسد کی فوج نے شام کے مختلف شہروں پر حالیہ بیرل بم حملوں میں بیس ہزار افراد کو ہلاک جبکہ ایک لاکھ کو زخمی کیا ہے۔

ہیلتھ کمیٹی کے بیان کے مطابق شامی فضائیہ نے ملک مختلف دیہات اور شہروں پر پانچ ہزار بیرل بم برسائے ہیں جس کے نتیجے میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ ان بیرل بموں میں بال بیرنگز اور لوہے کے کیلوں کے علاوہ TNT طرز کا دھماکا خیز مواد، کھاد اور درجہ حرارت بڑھانے والا الومونیم پاوڈر استعمال کیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ماہرین کے حوالے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شامی فوج نے جدید اسلحہ کی کمیابی کو پورا کرنے کے لئے بیرل بم استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ان بموں کا سائز آکسیجن کے سلنڈر کے سائز کے برابر ہے۔ ایسے اسلحے کی ماہرین درجہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔ شہروں اور دیہات پر گرائے جانے والے ان بموں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد ہزاروں جبکہ ان کی زد میں آ کر زخمی ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

یہ خطرناک اسلحہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے ساتھ بڑے پیمانے پر قرب و جوار میں بھی انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ جہاز سے فری فال کے دوران یہ بیرل ہوا میں دائرے بناتا ہوا اپنے ہدف کی طرف حرکت کرتا ہے۔ ان بموں کو ہیلی کاپٹروں اور مختلف طرز کے دوسرے جنگی جہازوں کے پروں کے ساتھ باندھا کر گرایا جاتا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق مگ 21 لڑاکا جہاز سے بیک وقت چار بیرل بم گرائے جا سکتے ہیں جبکہ مگ 23 کے ذریعے چھے اور سخوئی 22 طرز کے جہاز سے اٹھارہ بیرل بم گرائے جا سکتے ہیں۔ ان بموں کو پانچ سو سے دس کلومیٹر کی بلندی سے گرانے کے لئے خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔

روسی ساختہ fab بیرل بم سو ملی میٹر گیج کی جستی چادر سے بنایا جاتا ہے اور اس کے اندر ٹی اینڈ ٹی مواد بھرا جاتا ہے۔

ان بموں سے گرنے سے پہنچنے والا نقصان کا براہ راست تعلق اس کے وزن، گرائے جانے کی جگہ اور طریقہ کار سے ہوتا ہے۔ اس کے گرنے سے ہولناک آواز اور ہدف سے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے شعلے بلند ہوتے ہیں۔ نیز بم کے اندر بھرا مواد اردگرد موجود افراد اور اہداف کو نقصان پہنچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

ان بموں کو گائیڈڈ اسلحے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا استعمال فوجی یا سول رہائشی کالونیوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہیں چھوٹی عمارتوں یا متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔