.

اقوام متحدہ کے کارکنوں کو القاعدہ اغوا کر نے میں ملوث

شام میں متحرک القاعدہ گروپ کے بارے میں عراقی حکام کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے حساس اداروں کو ایسی دستاویزات ملی ہیں جن کے مطابق القاعدہ سے منسلک ایک اہم عسکری گروپ کے شام میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے اغوا میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

عراقی حکام کے بقول یہ اطلاعات اور دستاویزات النصرہ فرنٹ سے متعلق ہیں۔ جن میں النصرہ فرنٹ کے لیڈر ابو محمد الگولانی کا نام موجود ہے۔ عراقی ذرائع کے مطابق یہ دستاویزات القاعدہ کے ایک اور گروپ کے ارکان سے قبضے میں لی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ لیڈر الگولانی کی تصویر اور القاعدہ لیڈر کا تحریر کردہ خط بھی ہاتھ لگا ہے، تاہم ان عراقی حکام کا موقف تھا کہ ان کا نام سامنے نہ لایا جائے کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

عراقی انٹیلی جنس حکام کے مطابق انہوں نے القاعدہ سے متعلق انکشافات والی دستاویزات ماہرین کی رائے کیلیے بھجوائی ہیں کیونکہ ان دستاویزات پر تاریخ درج نہیں کی گئی جس سے یہ پتہ چلانے میں دقت آ رہی ہے کہ یہ خط کب لکھے گئے ہیں۔

واضح رہے اقوام متحدہ کا ایک کارکن شام میں آٹھ ماہ قبل اغوا ہوا تھا جسے بعد ازاں ماہ کتوبر میں چھوڑ دیا گیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ دو درجن کے قریب کارکن اسی سال مختصر دورانیے کیلیے اغوا کیے گئے تھے۔