.

غیر قانونی طور پر دہشتگرد قرار دیے جانیکی پروا نہیں: اخوان

سیاسی سرگرمیاں اور احتجاج جاری رہے گا: جلا وطن رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوجی حمایت سے قائم عبوری حکومت کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے باوجود اخوان نے اپنی سیاسی سرگرمیاں اور احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس امر کا اظہار لندن میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے والے اخوان المسلمون کی مجلس عاملہ کے رکن ابراہیم منیر نے ایک عالمی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

ابراہیم منیر نے کہا عبوری حکومت کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے بے جواز ہے۔'' انہوں نے مزید کہا '' عبوری حکومت کا یہ اقدام اخوان کو جکڑنے کی ایک کوشش ہے۔''

واضح رہے کہ اخوان المسلمون کو عبوری کابینہ نے منصورہ شہر میں وزارت داخلہ پر ہونے والے خوفناک بم دھماکے کے بعد دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اگرچہ کہ دھماکے کی اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے مذمت کی تھی۔ حکومتی فیصلے میں اخوان کے ساتھ ساتھ اس کی ذیلی تنظیموں کو بھی دہشت گرد گردانا گیا ہے۔

دوسری جانب القاعدہ سے متاثرہ عسکریت پسند گروپ انصار بیت المقدس نے وزارت داخلہ پر کیے گئے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یاد رہے عسکریت پسندوں کا یہ وہی گروپ ہے جس نے اس سے پہلے وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے سے پہلے بھی ماہ جولائِی سے سخت دباو کی صورت حال ہے۔ اخوان کی پوری قیادت جیلوں میں ہے، جبکہ سینکڑوں کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں نئے مسودہ دستور میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے