.

مالیاتی بحران کے باعث اردنی اخبارات کی اشاعت خطرے سے دوچار

تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سیکڑوں ملازمین سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں جاری مالیاتی بحران نے اخبارات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ملک کے متعدد پرانے اور کثیر الاشاعت اخبار وسائل کی قلت کے باعث بند ہونے کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اخبارات اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائی میں بھی ناکام ہیں۔ جس کے نتیجے میں ملازمین اخبارات مالکان کےخلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عمان میں پرنٹ میڈیا کو مالیاتی بحران کا پہلی مرتبہ سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ رواں سال ایسے ہی بحران کے نتیجے میں دو بڑے اخبارات کی اشاعت کئی ماہ تک بند رہی ہے۔

ملک کا ایک بڑا اخبار"الدستور" بھی تازہ اقتصادی بحران کی زد میں ہے۔ یہ اخبار سنہ 1967ء کے بعد تواتر کے ساتھ شائع ہوتا رہا ہے، لیکن حالیہ کچھ عرصے سے مالی بحران کا شکار ہے۔ اخبار "الرائے" دوسرا بڑا روزنامہ ہے جو مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس اخبار سے وابستہ ملازمین نے حال ہی میں تنخواہوں کی عدم ادائی کے خلاف احتجاجی کیمپ لگایا اور کئی روز تک بھوک ہڑتال کی ہے۔ حکومت کی جانب سے اخبار "الرائے" کے ملازمین کو 50 فی صد سوشل سیکیورٹی کی ضمانت بھی فراہم کر رکھی ہے۔ سنہ 1971ء کے بعد یہ ملک کا تواتر کے ساتھ شائع ہونے والا جریدہ ہے۔

پچھلے موسم گرما میں اخبار "العرب الیوم" کی طباعت واشاعت بھی وسائل کی قلت کے باعث بند ہوگئی تھی، تاہم چند ہفتے قبل اس کی اشاعت کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے۔ البتہ وسائل کی کمی کے پیش نظر اسٹاف فی الحال محدود ہے۔

سب سے پرانے اخبار"الدستور" کے چیف ایڈیٹرڈاکٹر امین مشاقبہ نے ملازمین کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد کل بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اخبار سےوابستہ صحافیوں سمیت 200 کارکنوں نے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اخبار الدستور کے 30 فی صد شیئرز بھی حکومت کے پاس ہیں۔