.

کویت: القاعدہ کے سابق ترجمان کی شہریت بحالی کا دعویٰ مسترد

اسامہ بن لادن کے داماد سلیمان ابوغیث دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں: عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق ترجمان کی جانب سے شہریت کی بحالی کے لیے دائرکردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

کویت کے ایک روزنامے 'القبس' میں جمعرات کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق انتظامی عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سلیمان ابو غیث ایک ایسے گروپ کے رکن رہے ہیں جو بے گناہ شہریوں پر دہشت گردی کے حملوں میں ملوث رہا ہے۔

کویت نے القاعدہ کے سربراہ مقتول اسامہ بن لادن کے داماد سلیمان ابوغیث کی شہریت 11ستمبر 2001ء کو امریکا میں دہشت گردی کے حملوں کے فوری بعد ختم کر دی تھی۔ ان کے خلاف اب نیویارک کی ایک عدالت میں دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا ہے کہ ''یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ابو غیث القاعدہ کے رکن رہے تھے اور اس کے ترجمان تھے۔یہ بھی ایک معروف حقیقت ہے کہ القاعدہ نے بے گناہ شہریوں پر دہشت گردی کے حملے کیے تھے اور اس کا یہ نظریہ ہے کہ امریکی فوجی جہاں بھی پائے جائیں،انھیں قتل کردیا جائے خواہ اس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی اموات ہی کیوں نہ ہوں''۔

کویت کی انتظامی عدالت کا یہ حکم حتمی نہیں ہے اور اس کو اپیل عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔سلیمان ابوغیث کی بیوی اور بچے کویت ہی میں رہے ہیں اور کویتی حکومت نے ان کی شہریت سلب نہیں کی تھی۔

امریکی پراسیکیوٹرز نے ابو غیث کو 2001ء میں جوتا بم سازش میں ملوث قراردیا تھا۔اس سازش کے تحت پیرس سے میامی جانے والے ایک مسافر طیارے کو اڑایا جانا تھا۔ ان کے علاوہ دو اور الزامات بھی ان پر عاید کیے گئے ہیں۔

برطانیہ سے بھرتی کیے گئَے القاعدہ کے ایک رکن رچرڈ ریڈ کو جوتوں میں چھپائے گئے بموں کے ذریعے امریکا میں مسافر طیارے کو اڑانے کی سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔

اڑتالیس سالہ ابو غیث کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمے کی سماعت 3 فروری سے شروع ہوگی۔ اس سے پہلے ان پر صرف امریکیوں کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ اگر وہ قصور وار ثابت ہو گئے تو انھیں عمر قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سلیمان ابوغیث جون 2001ء میں کویت سے افغانستان گئے تھے۔ وہ اسی سال کے آخر میں افغانستان میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کی چڑھائی کے بعد ایران منتقل ہوگئے تھے اور وہاں 2013ء کے اوائل تک مقیم رہے تھے۔ پھر وہ ترکی چلے گئے۔انھیں وہاں گرفتار کر لیا گیا اور بذریعہ پرواز کویت لے جایا جا رہا تھا۔ اس دوران جب طیارے نے اردن میں مختصر قیام کیا تو انھیں وہاں گرفتار کر کے امریکا منتقل کردیا گیا۔