.

اخوان نواز ریلیوں میں دو افراد کی ہلاکت، 150 گرفتار

پولیس کی حکومت مخالف ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مختلف شہروں میں موجودہ حکومت کے عتاب کا شکار سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے ہزاروں حامیوں نے ریلیاں نکالی ہیں جن کے دوران جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے کم سے کم ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق آج نماز جمعہ کے بعد قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اخوان المسلمون کے حامی حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے مسلح افواج کے خلاف نعرے بازی کی۔ مصری پولیس نے حسب معمول ان کے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

مصر کی عبوری حکومت نے دو روز قبل ہی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ اس حکم نامے کے تحت اخوان کے حق میں ریلیوں اور جلسے جلوسوں پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔ قاہرہ میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود اخوان اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی طلبہ نے تاریخی جامعہ الازہر کے باہر مظاہرہ کیاہے۔

نجی ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والی فوٹیج میں پولیس کو طلبہ مظاہرین کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ طلبہ پولیس کی جانب پتھراؤ کررہے ہیں اور انھوں نے اشک آور گیس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے درختوں کی شاخوں کو آگ لگا رکھی ہے۔

مصر کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق قاہرہ میں پولیس نے ایک اور مظاہرے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔نہر سویز کے کنارے واقع شہراسماعیلیہ سے بھی پولیس اور اخوان کے حامی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رات جامعہ الازہر کے قریب اسلامی طلبہ اور ان کے مخالف شہریوں کے درمیان جھڑپ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ مصری سکیورٹی فورسز نے اس دورن اخوان المسلمون کے ایک سو اڑتالیس ارکان اور حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔انھیں حکومت کی جانب سے اخوان المسلمون پر پابندی اور دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اقدام کے تحت پانچ سال تک قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔