.

دہشتگردوں سے نمٹنے کیلیے امریکی ڈرونز عراقی فضائیہ کے حوالے

دوسرے ملکوں کو بھی ڈرون دینے کا اشارہ سامنے آ گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق میں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلیے ڈرون طیارے اور ڈرون طیاروں کے ذریعے چلائے جانے والے میزائل عراقی ائیر فورس کے حوالے کر دیے ہیں۔ پہلے مرحلے پر75 ہیلفائر میزائل دیَے گئے ہیں۔ بعد ازاں بحری راستے سے بھاری مقدار میں میزائل فراہم کیے جائیں گے۔

عراق کو میزائلوں اور ڈرون طیارے فراہم ہونے سے اس امر کا اشارہ اور سوال سامنے آیا ہے کہ امریکا آئندہ دنوں اپنا یہ منفرد مگر موثر جنگی ہتھیار پاکستان یا دوسرے ملکوں کی افواج کو بھی فراہم کر سکتا ہے۔

واضح رہے پاکستان کافی عرصے سے امریکا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے میزائلوں سے لیس ڈرون طیارے اس کی فورسز کو فراہم کیے جائیں جو دہشت گردوں کیخلاف پاکستانی فورسز خود استعمال کر سکیں۔

پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ اس سے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کیخلاف ابھرنے والا عوامی رد عمل اور حکومت کے خلاف سامنے آنے والا سیاسی دباو بھی کم ہو سکتا ہے۔ نیز امریکی ڈرون حملوں سے عالمی سطح پر اٹھنے والی آوازوں کو بھی روکا جا سکے گا۔

پاکستان اور یمن کے بعد عراق تیسرا اہم ملک ہو گا جہاں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلیے امریکی ڈرون طیاروں کا استعمال ہو گا۔ اب تک ڈرون طیاروں کے ذریعے امریکا نے سب سے زیادہ اہداف پاکستان میں حاصل کیے ہیں، لیکن ان دنوں پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف سضت عوامی ردعمل سے نیٹو سپلائی بھی تعطل کا شکار ہے۔

عراقی فورسز کے ذرائع کے مطابق عراقی فورسز کو پہلی کھیپ 19 دسمبر کو دی گئی ہے۔ ہیلفائر نامی میزائل فضا سے زمین پر استعمال ہونے والے میزائل ہیں۔ جنہیں عراقی فضائیہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری مہم میں بروئے کار لائے گی۔ تاہم عراقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے فراہم کردہ میزائل عراقی فضائیہ کے کنگ ائیر پراپلر نامی چار طیارے استعمال کریں گے۔

ہیلفائر وہی امریکی میزائل ہیں جو امریکی افواج القاعدہ کے ٹھکانوں اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی گاڑیوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنانے کیلیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے عراق کیلیے میزائلوں کی کھیپ بھجوانے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے اس چیز کا منصوبہ بنایا تھا کہ عراق کو ''سکین ایگل ڈرونز'' دے گا۔

جین پاسکی کا کہنا ہے ''امریکا سٹریٹجک فریم ورک ایگریمنٹ کے تحت دہشت گردی سے نمٹنے کیلے عراق کی امداد کرنے کا پابند ہے۔'' اس موقع پر جین پاسکی 2008 میں امریکا اور عراق کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا بھی حوالہ دیا۔

تاہم یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ امریکی ترجمان یا عراقی فورسز نے یہ تاثر نہیں دیا جاسوس ڈرونز اور میزائلوں کی بیک وقت فراہمی کا مطلب پاکستان میں استعمال کی جانے والی ڈرون ٹیکنالوجی کا مکمل طور پر عراقی فضائیہ کے سپرد کیا جانا ہے۔ بلکہ دونوں طرف سے ڈرون طیاروں اور ہیلفائر میزائلوں کے درمیان تعلق جوڑے بغیر ذکر کیا گیا ہے۔